عراقی میڈیا میں اصطلاح "ہم جنس پرستی" کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے میڈیا اور کمیونیکیشن کمیشن نے ملک میں کام کرنے والے تمام میڈیا آؤٹ لیٹس اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ "ہم جنس پرستی" کی اصطلاح استعمال نہ کریں اور اس کے بجائے "جنسی اقلیت" کی اصطلاح استعمال کریں۔ یہ ہدایات ایک حکومتی ترجمان اور کمیشن کی طرف سے جاری لیٹر میں کی گئیں۔

لیٹر میں کہا گیا کہ اتھارٹی نے "جنس" کی اصطلاح کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے اور ان تمام موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جو اس سے لائسنس حاصل کرتی ہیں کہ وہ موبائل فون پر موجود کسی بھی ایپلی کیشن میں ان دو شرائط کو استعمال کریں۔

ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ فیصلے کی حتمی منظوری ابھی تک نہیں ہوئی، بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیونیکیشنز اینڈ میڈیا اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ ؟؟ہم جنس پرستی‘‘ کی اصطلاح استعمال نہ کریں اور حقیقی اصطلاح ’’جنسی اقلیت‘‘ کا استعمال کریں۔

اتھارٹی نے کہا کہ اس کا مقصد "معاشرے اور اس کی موروثی اقدار کو خارجی اصطلاحات سے بچانا ہے جو امن عامہ اور عوامی اخلاقیات کے خلاف مفہوم بن چکے ہیں۔" ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ اس فیصلے کی خلاف ورزی کی سزا کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا ہے، لیکن اس میں جرمانہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

عراق واضح طور پر ہم جنس پرستی کو جرم قرار نہیں دیتا، لیکن یہ ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے اخلاقی دفعات کا استعمال کرتا ہے۔ ان اخلاقی دفعات کی تعزیرات کے ضابطے میں ڈھیلے ڈھالے طریقے سے وضاحت کی گئی ہے۔

عراق کی اہم جماعتوں نے گزشتہ دو مہینوں میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے حقوق پر اپنی تنقید کو تیز کر دیا ہے کیونکہ سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن پاک کے نسخوں کو ۔ نعوذ باللہ ۔ نذر آتش کرنے پر ناراض شیعہ دھڑوں نے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا ہے۔ ان مظاہروں میں ہم جنس پرستوں کے جھنڈوں کو بھی جلایا گیا ہے۔

ویب سائٹ "آور ورلڈ ان ڈیٹا" کے مطابق 60 سے زائد ممالک ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیتے ہیں اور 130 سے زائد ممالک اس کی اجازت دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں