شام میں داعش کا حملہ ، حکومت کے 23 فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام کے مشرقی حصے میں ایک فوجی بس پر حملے میں شامی حکومت کے کم از کم 23 فوجی ہلاک ہو گئے۔ حملے کا الزام داعش پر عائد کیا گیا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ جمعرات کو دیر الزور صوبے میں داعش نے "ایک فوجی بس کو نشانہ بنایا"۔
یہ حملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب انتہا پسند گروپ کی باقیات اپنی کاروائیوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔


برطانیہ میں مقیم جنگی نگرانی گروپ ، جو شام کے اندر ذرائع کے وسیع نیٹ ورک پر انحصار کرتا ہے، نے کہا کہ حملے میں "23 فوجی ہلاک اور 10 سے زیادہ زخمی ہوئے" جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔

آبزرویٹری نے کہا کہ "درجنوں (دیگر) فوجی" لاپتہ ہیں۔

2019 میں شام میں اپنے آخری گڑھ کو کھونے کے باوجود، داعش نے شام کے وسیع صحرا میں ٹھکانے بنائے رکھے ہیں جہاں سے اس نے گھات لگا کر کئی حملے کیے ہیں۔

تنظیم نے حالیہ ہفتوں میں شام کے شمال اور شمال مشرق میں اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

سیرین آبزرویٹری نے منگل کو بتایا تھا کہ دس شامی فوجی اور حکومت کے حامی جنگجو اس ہفتے کے شروع میں صوبہ رقہ کے سابق شدت پسند گڑھ میں داعش کے حملے میں مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں