قوموں میں نفرتیں مٹانے کے لیے مکہ کانفرنس امن کا پیغام ہے: مفتی اعظم سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مفتی اعظم، سینئر علما کونسل کے چیئرمین اور قائمہ کمیٹی برائے سائنسی تحقیق کے چیئرمین شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی جانب سے عالمی اسلامی کانفرنس (رابطہ و ہم آہنگی) کے انعقاد کی منظوری کو قابل تعریف قرار دیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد اسلامی امور، دعوت و رہنمائی کی وزارت کر رہی ہے۔ اس میں دنیا بھر سے مختلف شعبوں کے 150 علمائے کرام، مفتیان عظام اور شیوخ شریک ہو رہے ہیں۔ دو روزہ کانفرنس 26 اور 27 اگست کو منعقد ہو رہی ہے۔

سعودی عرب کے مفتی اعظم نے اس بات کی تصدیق کی کہ خادم حرمین شریفین کی منظوری سے اس کانفرنس کے انعقاد سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں مملکت سعودیہ کی دلچسپی اور اس کی اسلامی تعلیمات کو پھیلانے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔ کتاب و سنت کی روش کے مطابق دین اور دنیا میں امن و محبت پھیلانے کے سعودی عرب کے جذبہ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ میں اس کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جب کچھ تنازعات اور نفرتیں بھڑک رہی ہیں۔ یہ کانفرنس اس پیغام کا ثبوت ہے جو مملکت اسلام کی رواداری اور اعتدال پسندی اور بقائے باہمی کی دعوت کے بارے میں دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔

سعودی عرب نفرت اور عدم برداشت کو مسترد کرنا اور لوگوں میں پھیلنے والے نفرت اور تشدد کے جذبات کو کم کرنے کے لیے ایک شراکت دار کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب ایک سلامتی اور امن کا ملک ہے۔ یہ یہ لوگوں کے درمیان رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینے اور اعتدال پسند اسلامی طرز فکر کے مطابق سب کے حقوق کے تحفظ کا خواہاں ہے۔

شیخ عبدالعزیز نے کانفرنس کے مقاصد اور اس میں موجود اہم محوروں کی تعریف کی جو مسلمانوں کے درمیان اسلامی اتحاد کو مضبوط کرنے، انتہا پسندیاور منحرف نظریات کو مسترد کرنے، ہم آہنگی کے حصول اور علماء اور مفتیان کے درمیان نظریات اور تجربات کے تبادلے میں معاون ثابت ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں