بارودی سرنگوں کے درمیان تیراکی، جنگ کے بعد یوکرین کا ساحل سیاحوں سے آباد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے بحیرہ اسود کے شہر اوڈیسا کے کئی ساحلوں کو فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار باضابطہ طور پر تیراکی کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ مقامی حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ فضائی حملے کی وارننگ کی صورت میں ساحل کو خالی کردیں۔

اوڈیسا یوکرین کی سب سے بڑی بندرگاہ اور بحری اڈے کو بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سیکڑوں سمندری بارودی سرنگیں پانی میں بکھری ہوئی ہیں۔

ساحل کو رہائشیوں کی حفاظت اور ساحلوں پر بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔

اوڈیسا کے علاقے کے گورنر اولیہ کیپر نے ٹیلی گرام کے ذریعے بتایا کہ ساحلوں کو کھولنے کا فیصلہ شہر کے سول اور فوجی محکموں نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ساحل صبح آٹھ بجے سے شام آٹھ بجے تک کھلے رہیں گے۔

ایک سابق ریسکیو اور غوطہ خور نے اپنی شناخت اولیکسینڈر کے طور پر کرتے ہوئے بتایا کہ دو بلک ہیڈز کے درمیان ایک مائن پروف جال بچھایا گیا تھا تاکہ تیراکوں کو پانیوں میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جال انہیں روک دے گا۔ ایسے موسمی حالات میں ساحل سمندر سے بارودی سرنگیں بھی نظر آئیں گی۔ ہنگامی ٹیموں کو اطلاع دی جائے گی اور وہ ان سے نمٹ لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں