لبنان کے سرکردہ مسیحی مذہبی پیشوا کا جھڑپ کے بعد ہتھیاروں پر ریاستی کنٹرول کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے سرکردہ مسیحی مذہبی پیشوا بِشارہ بُطرُس الرَّاعی نے ملک میں ہتھیاروں پر ریاستی کنٹرول کا مطالبہ کیا ہے۔چند روز قبل بیروت کے نواح میں مسیحی دیہاتیوں اور بھاری ہتھیاروں سے لیس حزب اللہ ملیشیا کے درمیان گولہ بارود سے لدا ایک ٹرک الٹنے کے بعد ہلاکت خیز جھڑپ ہوئی تھی۔

ممتاز میرونائٹ مسیحی عالم بِشارہ بُطرُس الرَّاعی نے اتوار کو مذہبی اجتماع میں اس موضوع پر گفتگوکی ہے اور انھوں نے تمام جماعتوں اور ملک کے دیگر عناصر پر زور دیا ہے کہ وہ ’’ریاست کے جھنڈے تلے متحد ہوں اور بالخصوص ہتھیاروں کا کنٹرول ریاست کے پاس ہونا چاہیے‘‘۔

الرَّاعی نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’ایک سے زیادہ ریاست، ایک سے زیادہ قانونی فوج، ایک سے زیادہ اتھارٹی اور ایک سے زیادہ خودمختاری کے ساتھ ایک سرزمین پر رہنا ممکن نہیں ہے‘‘۔

بیروت کے قریب واقع گاؤں الكحالہ میں گذشتہ بدھ کو فائرنگ کے تبادلے میں حزب اللہ کا ایک رکن اور ایک مسیحی باشندہ ہلاک ہو گیا تھا۔یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی تھی جب گولہ بارود لے جانے والا حزب اللہ کا ایک ٹرک علاقے سے گزرتے ہوئے الٹ گیا تھا۔

دو سال قبل بیروت میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اس کے مخالف لبنانیوں کے درمیان یہ سب سے مہلک تصادم تھا، جس نے پہلے سے گہرے سیاسی اور معاشی بحرانوں کا شکار ملک کے استحکام کو مزید ہلا کر رکھ دیا ہے۔

حزب اللہ کی بنیاد 1982 میں ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے رکھی تھی۔یہ اس وقت لبنان کا سب سے طاقتور سیاسی اور مسلح گروپ ہے۔ لبنان میں اس کے ہتھیار ایک طویل عرصے سے تنازع کا باعث رہے ہیں اورمخالفین اس گروپ پر ریاست کو کمزور کرنے کا الزام عاید کرتے ہیں۔

لبنان کو گذشتہ چار سال سے سنگین مالی بحران کا سامنا ہے اور 1975-90 کی خانہ جنگی کے بعد سے اس وقت شدید عدم استحکام سے دوچار ہے۔اس کی وجہ ارباب اقتدار وسیاست کی کئی دہائیوں کی کرپشن اور ان کے سرکاری خزانے سے بے جا اخراجات تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں