کیا لبنان میں حادثے کا شکار ہونے والے حزب اللہ کے ٹرک میں ایرانی میزائل لادے گئے تھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اگرچہ لبنان کے علاقے کحالہ میں حزب اللہ کے ٹرک کو الٹےکئی دن گزر چکے ہیں لیکن وہ مسئلہ جس نے خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ تقسیم کی کیفیت پیدا کی وہ اب بھی لبنانیوں کے لیے زبان زد عام ہے۔

گذشتہ چند دنوں کے دوران بہت سے لبنانیوں نے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا میں حزب اللہ کی "غنڈہ گردی" پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

خاص طور پر چونکہ حزب اللہ کے اراکین اور حامیوں نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران نئی بکتر بند گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں جنہیں بہت سے لبنانیوں نے دھمکی آمیز پیغام قرار دیا۔

تاہم اس معاملے میں حیران کن نئی بات وہ ہے جس کا حوالہ اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ اتھارٹی "کے اے این" نے دیا ہے۔

ٹینک شکن میزائل

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ ملیشیا کا ٹرک "ایرانی میزائل لے کر جا رہا تھا۔"

"ٹائمز آف اسرائیل" اخبار کے مطابق سکیورٹی حکام نے ایرانی ٹینک شکن میزائلوں کی موجودگی کی طرف اشارہ دیا اور یہ اسلحہ تہران نے اپنی وفادار تنظیم کو بھیجا تھا۔

ذرائع نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ان ہتھیاروں کو ایک مکمل شہری علاقے سے خطرناک طریقے سے منتقل کیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی کوشش حزب اللہ کے (یونٹ 4400) نے ترتیب دی تھی۔

گذشتہ بدھ کو بیروت کے قریب کحالہ میں حزب اللہ کے ارکان اور عیسائیوں کی اکثریت والے قصبے کے متعدد رہائشیوں کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں