عن قریب سعودی عرب کے شہری دُنیا کے امیرترین لوگ شمار ہوں گے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا کی تیز رفتار معیشتوں میں سعودی عرب کی معیشت بھی دن دگنی رات چگنی ترقی کررہی ہے۔ معاشی آسودگی کا یہ سفر مسلسل عروج کی طرف جاری ہے اور سعودی قوم دنیا فی کس آمدنی کے اعتبار سے دُنیا کی امیر ترین قوم بننے جا رہی ہے۔ اقتصادی ترقی اور ’جی ڈی پی‘ کی شرح نمو میں اضافہ مملکت میں فی کس آمدن میں اضافے کا ذریعہ ہے۔

گولڈمین سیکس کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ سعودی ترقی یافتہ منڈیوں سے باہر دنیا کی سب سے زیادہ آمدنی والے بننے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا ہے کہ رپورٹ میں شامل 122 معیشتوں میں 2075 تک فی کس جی ڈی پی تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

یقینی طور پر فی کس جی ڈی پی کسی ملک کی معاشی پیداوار کو اس کی کل آبادی سے تقسیم کرنے کا ایک پیمانہ ہے۔ یہ اکثر کسی ملک کے معیار زندگی اور معاشی ترقی کے اشارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

تاہم یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ فی کس ’جی ڈی پی‘ میں آمدنی میں عدم مساوات، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک رسائی، ماحولیاتی پائیداری جیسے عوامل کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، یہ سب کسی ملک کے شہریوں کی فلاح و بہبود کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ فی کس ’جی ڈی پی‘ مختلف عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے جیسے کہ آبادی میں اضافے، پیداواری صلاحیت اور تکنیکی ترقی میں تبدیلی جو وقت کے ساتھ ساتھ کسی ملک کی اقتصادی کارکردگی میں تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے فی کس ’جی ڈی پی‘ کسی ملک کی اقتصادی کارکردگی کے بارے میں بصیرت فراہم کر سکتا ہے۔اسے دوسرے اقدامات کے ساتھ ملا کر کسی ملک کی مجموعی بہبود اور ترقی کی مزید مکمل پیمانہ بنایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کئی عوامل ہیں جو ابھرتی ہوئی مارکیٹ (EM) معیشتوں کی اقتصادی کارکردگی میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ایک عنصر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں اعلی آمدنی میں اضافے کا امکان ہے جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے اسٹاک کے لیے زیادہ قیمتوں کا باعث بن سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں