گھڑ سواری کے عرب کلچر کی بحالی کے لیے کوشاں سعودی تیر انداز نورہ الجبر سےملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گھڑ سواری کے ساتھ نیزہ بازی اور تیراندازی میں سعودی عرب کا نام روشن کرنے والی نورہ عبداللہ الجبرکی عمر محض نو سال تھی جب اس نے گھڑ سواری کو اپنا مشغلہ بنایا۔ اس وقت نورہ کا شمار سعودی عرب میں گھڑ سواری، نیزہ بازی اور تیر اندازی کے مشاغل میں سرگرم سعودی عرب کی صف اول کی خواتین میں ہوتا ہے۔ نورہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے نو سال کی عمر میں گھوڑ سواری کے عرب کلچر کو زندہ کرنے کا مشن اختیار کیا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے نورہ نے گھوڑوں سے اپنی والہانہ محبت کی کہانی بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ گھڑ سواری کے اس شوق کا آغازاس وقت ہوا جب میں نے الخبر میں العزیزیہ کے ساحلوں پر گھوڑوں پر سواری شروع کی۔ 13 سال کی عمر میں اس نے گھوڑ سواری میں مکمل مہارت بہم پہنچا لی۔ مگرسنہ 2020ءاس نے میں گھوڑے کی پیٹھ پر تیر اندازی اور نیزہ بازی کی بھی مشق مکمل کرلی۔

ایک سوال کے جواب میں نورہ نے مزید کہا کہ"میرے ذہن میں بہت سے سوالات تھے جب میں نے دیکھا کہ دنیا بھر میں گھڑ سواری کے زیادہ تر کھیل جو دیکھے جاتے ہیں نسبتاً نئے کھیل ہیں اور ان کا تعلق ہمارے عربی گھوڑوں سے نہیں۔ ان کی طاقت، خوبصورتی اور بلندی کو مناسب طور پر اجاگر نہیں کیا جاتا۔ میں اور ان تاریخی کھیلوں کے شائقین کا ایک گروپ اس عظیم وراثت کو زندہ کرنا چاہتا تھا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر تمام مہارتوں اور مارشل آرٹس کو سیکھ کر گھڑ سواری کو حقیقی معنی کو اس کی منزل سے آشنا کرنا چاہتے تھے اور یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ طاقت اور ہم آہنگی سے بھرپور عربی النسل گھوڑے اپنا ثانی نہیں رکھتے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ "میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں کہ خالص نسل کا عربی گھوڑا مستند ورثے کا ہے۔ اپنے ورثے کو زندہ کرنے اور اپنی عرب شناخت پر فخر کرنے کی ضرورت کا پیغام دینے کی کوشش کرتی ہوں"۔

نورہ الجبر نے مزید کہا: "میں اس کہاوت سے بہت اتفاق کرتی ہوں کہ 'دوسروں نے جہاں ختم کیا ہے وہاں سے شروع کریں'۔ پھر اس مہارت سے متعلق کتابیں پڑھیں اور اسے سکھانے کے ماہر اسکولوں میں جا کر اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیں، اس کے بعد آپ اپنا تخلیق کریں۔ میں روزانہ کی بنیاد پر تیر اندازی، شمشیز زنی، نیزہ بازی اور عربی گھوڑوں گھڑ سواری کی تربیت لیتی اور قدیم عربی نسخوں کو پڑھ کر خود کو تیار کرتی ہوں۔ پھر اس کا زمین پر اطلاق کرتا ہوں"۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے ریاض میں منعقدہ مقامی پک اپ ٹورنامنٹ کے ساتھ ساتھ ہارس بیک شوٹنگ ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لیا، یہ دونوں کھیل سعودی گھڑ سواری فیڈریشن کے زیر اہتمام ہوئے ہیں۔ میں نے پہلی خاتون سوار کے طور پر سعودی عرب کی نمائندگی بھی کی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں