جنین میں اسرائیلی فوج کی کارروائی میں فلسطینی نوجوان شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو علی الصبح فلسطین کے شمالی مغربی کنارے کے جنین شہر میں ایک "اقدامی" آپریشن کے دوران اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی بندوق بردار کو شہید اور ایک ہیلتھ ورکر کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا۔

فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ "32 سالہ نوجوان مصطفیٰ الکستونی کو آج جمعرات کی صبح جنین پر جارحیت کے دوران قابض فوجیوں نے سر، سینے اور پیٹ میں گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئی۔

ایک الگ بیان میں وزارت صحت نے اس بات کی تصدیق کی کہ "جنین پر حملے کے دوران وزارت صحت کی ایک خاتون ملازمہ جس کی عمر چونیتس سال تھی کو پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے دوران سینےاور پیٹ میں گولیاں مار کر زخمی کردیا گیا۔ جنین کے ڈپٹی گورنر کمال ابو الرب کے مطابق زخمی خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی افواج نے "(اسلامی جہاد) دہشت گرد تنظیم سے منسلک ایک دہشت گرد سیل کو گرفتار کرنے کے لیے ایک پیشگی اور احتیاطی کارروائی کی۔ اس دوران دو مطلوب افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

فوج کے بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ "جنین کا رہائشی مصطفیٰ الکستونی اس وقت مارا گیا جب اس نے فورسز پر فائرنگ کی اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران فرار ہونے کی کوشش کی۔"

اپنے بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں نے تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک عمارت سے ایک پستول اور استعمال کے لیے تیار درجنوں دھماکہ خیز آلات قبضے میں لینے کے بعد انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔

مغربی کنارا جو 1967 سے اسرائیل کے قبضے میں ہے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس اضافے میں فلسطینی اہداف کے خلاف بار بار اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور فلسطینیوں کا اسرائیلی آباد کاروں کے خلاف حملے شامل ہیں۔

یہ کشیدگی شمالی مغربی کنارے میں نابلس اور جنین شہروں میں ہے جنہیں مسلح فلسطینی دھڑوں کے گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں