ماحولیاتی تبدیلی کے بعد ایک اور خطرہ، بڑھتے سمندر کو روکنے کے لیے بحرین کے اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پہلے سے ہی شدید گرمی سے نبرد آزما، بحرین اب ایک اور ماحولیاتی خطرے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سمندر کی سطح میں اضافہ ایک خاموش خطرہ ہے جو اس کے ساحل کے کچھ حصوں کو نگل سکتا ہے، ملک کے تیل اور ماحولیات کے وزیر محمد بن مبارک بن دینہ نے بتایا۔

اگلے سال تک، ملک اس رجحان کے خلاف اپنا دفاعی منصوبہ شروع کرے گا، جو بنیادی طور پر ساحلوں کو پھیلانے، اونچے سمندری رکاوٹوں کی تعمیر، اور زمین کی سطح کو سطح سمندر سے بلند کرنے پر مبنی ہے۔

وزیر نے منامہ میں فرانس پریس ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ "بحرین ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہے"، مگر "بنیادی خطرہ ایک خاموش خطرہ ہے، جو کہ سطح سمندر میں اضافہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ بحرینی حکام نے پہلے ہی 1976 سے ہر سال سمندر کی سطح میں 1.6 ملی میٹر سے 3.4 ملی میٹر کے درمیان اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

لیکن 2050 تک، سمندر کی سطح کم از کم 0.5 میٹر تک بڑھ سکتی ہے، انہوں نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی کے بین الحکومتی پینل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

بحرین کا ہوائی اڈا
بحرین کا ہوائی اڈا

کچھ ماہرین اس اندازے کو قدامت پسندی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ہوائی اڈا ڈوب سکتا ہے

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پانچ میٹر اونچائی سے ملک کے بیشتر حصوں میں سیلاب آ جائے گا، جس کی زد میں اس کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی ہے۔

بڑھتے ہوئے سمندر سیلاب کو بڑھاتے ہیں، ساحلی خطوط کو خطرہ بناتے ہیں اور بحرین کے پہلے ہی نایاب زمینی ذخائر کو نمکین سمندری پانی سے آلودہ کر سکتے ہیں۔

بحرین کے وزیر تیل اور ماحولیات محمد بن مبارک بن دینہ
بحرین کے وزیر تیل اور ماحولیات محمد بن مبارک بن دینہ

انہوں نے کہا کہ اسی لیے بحرین کی اولین ترجیحات میں سے ایک سطح سمندر میں اضافہ ہے۔

''اس کے لیے یا تو ہم ساحلوں کو وسیع کریں گے، مخصوص علاقوں کے لیے چٹان کی دیوار بنائی جائے گی یا ہم زمین کی اصلاح کرکے ساحل سمندر سے بلند کریں گے۔''

انہوں نے کہا کہ "یہ ایک تفصیلی منصوبے کا حصہ ہے۔" یہ 10 سال سے بھی کم عرصے میں مکمل ہو گا۔

واضح رہے کہ بحرین کو نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے گلوبل ایڈاپٹیشن انیشیٹو نے موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرے والے ممالک میں سے ایک کے طور پر ظاہر کیا تھا۔

رواں ماہ کے دوران اس نے دو مرتبہ توانائی کی کھپت کا اپنا ریکارڈ توڑا ہے، کیونکہ درجہ حرارت 44 ڈگری سیلسیس (111.2 ڈگری فارن ہائیٹ) تک جا پہنچا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں