حزب اللہ کا ٹرک پھر موضوع بحث، تحقیقات کے لیے کئی افراد کو گرفتار کرلیا: حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے علاقے کحالہ میں حزب اللہ کا ٹرک الٹنے کو کئی دن تو گزر چکے تاہم یہ معاملہ اب بھی موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔ حالیہ پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ الکحالہ کی میونسپلٹی کا اجلاس ہوا اور اس اجلاس کے بعد بیان جاری کیا گیا ہے کہ ٹرک الٹنے کے بعد شہر سے کئی افراد کو تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

کحالہ میونسپلٹی نے کہا کہ تحقیقات کا آغاز غیر مسلح لوگوں سے پوچھ گچھ سے نہیں ہونا چاہیے جو اس وقت کحالہ کے مکینوں میں موجود تھے۔ اس کی جگہ توجہ مسلح گروہوں پر مرکوز کرنا ہوگی۔ ان گروپوں کے افراد نے ڈرانے کے لیے مشین گنوں سے فائرنگ کی تھی۔

یہ وہ فادی بیجانی ہے جس نے انہیں پسپا کرنے کی کوشش کی تھی اور شہریوں کی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا تھا۔ اس کا ثبوت ویڈیو اور آڈیو میں موجود ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ انصاف کے حصول کے لیے تحقیقات کرنا ایک فرض کا درجہ رکھتا ہے تاہم اس کا آغاز کسی اور جگہ سے ہونا چاہیے تاکہ حملہ کرنے والا اور حملہ کی زد میں آنے والا برابر نہ ہوجائیں ۔

یاد رہے 9 اگست کو بیروت کے قریب کحالہ میں حزب اللہ کے ارکان اور عیسائیوں کی اکثریت والے قصبے کے متعدد رہائشیوں کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد مارے گئے۔ اس وقت بتایا گیا تھا کہ بیروت کو دمشق سے ملانے والی سڑک پر واقع چھوٹے سے قصبے میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک ٹرک کے الٹنے کے بعد جھڑپیں ہوئی تھیں۔

شہری کپڑوں میں ملبوس افراد نے فوری طور پر ٹرک کو گھیرے میں لے لیا جس پر شہر کے کئی لوگوں کو شبہ تھا کہ وہ شیعہ جماعت کے لیے ہتھیاروں سے لدے ہوا تھا۔ خیال رہے کہ اس واقعہ کے بعد اس لبنان میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جو پہلے ہی اپنے بدترین معاشی اور سیاسی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں