معذوروں کو خلیج میں کام دلوانے والی اماراتی کمپنی کے بارے میں جانیے!

ٹیلنٹ کے حصول کے ذریعے معذوری کے دقیانوسی تصورات کو توڑتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی یہ فرم جامع انداز کے ساتھ راہ دکھاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

متحدہ عرب امارات میں قائم ایک 'کیرئیر میچنگ' کمپنی آئی ایم انکلوسیو آجروں کی ان غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے جو معذور افراد کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں ہیں تاکہ ذہنی یا جسمانی معذوری کے حامل مزید لوگوں کو جی سی سی کی افرادی قوت میں شامل کیا جا سکے۔

29 سالہ حفصہ قدیر کے ذہن کی پیداوار - آئی ایم انکلوسیو - کا مقصد کمپنیوں کو یہ دکھانا ہے کہ معذور افراد کو مساوی تنخواہ، سینئر کردار، مساوی کام کرنے تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ حفصہ اپنے 20 سالہ بھائی احمد قدیر کے سفر سے متاثر ہوئی ہیں جو اسپائنا بیفیڈا کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ یہ بھی دکھانا چاہتے ہیں کہ ایسے کارکنوں کی خدمات حاصل کرنا محض ایک ٹک باکس مشق نہیں ہے جو سی آر ایس یا کسی عظیم مقصد کے مطابق ہو بلکہ ان فوائد کو بروئے کار لانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جو عزم کے حامل لوگ کام کی جگہ پر لاتے ہیں - بالکل کسی بھی دوسرے ملازم طرح۔

متحدہ عرب امارات میں قائم ایک 'کیرئیر میچنگ' کمپنی آئی ایم انکلوسیو آجروں کی ان غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے جو معذور افراد کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں ہیں تاکہ ذہنی یا جسمانی معذوری کے حامل مزید لوگوں کو جی سی سی کی افرادی قوت میں شامل کیا جا سکے۔ (فراہم کردہ)
متحدہ عرب امارات میں قائم ایک 'کیرئیر میچنگ' کمپنی آئی ایم انکلوسیو آجروں کی ان غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے جو معذور افراد کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں ہیں تاکہ ذہنی یا جسمانی معذوری کے حامل مزید لوگوں کو جی سی سی کی افرادی قوت میں شامل کیا جا سکے۔ (فراہم کردہ)

قدیر نے معن ابوظبی کے تحت انوویشن انکیوبیٹر کے تعاون سے کیریئر میچنگ سروس کا آغاز کیا - جسے 2019 میں ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹی ڈویلپمنٹ ابوظہبی نے سماجی شراکت اور شراکت کے کلچر کو فروغ دینے اور بنانے کے لیے قائم کیا تاکہ سرمائے میں سماجی ترجیحات کو حل کیا جا سکے۔

حفصہ قدیر نے چھ بہن بھائیوں کے خاندان میں ایک ہی ماں/باپ کے ساتھ پرورش پائی اور انہیں ان کے رضاکارانہ کام کے ذریعے 2018 میں ابوظبی میں ہونے والے خصوصی اولمپکس ایم ای این اے علاقائی کھیلوں میں بلایا گیا۔

ان کا اصل مقصد آئی ایم انکلوسیو ایپ بنانا تھا تاکہ ان کا بھائی مزید دوست بنا سکے اور خاندان کمیونٹی ممبران سے رابطہ کر سکیں جو تنہائی پر قابو پانے کے لیے اسی طرح کے تجربات سے گذر رہے تھے۔

معن ابوظبی میں اپنے تعاون اور رہنمائی کے ذریعے قدیر نے سینکڑوں لوگوں کا سروے کیا جس میں پرعزم لوگوں کی شمولیت کے لیے روزگار کو اہم حل کے طور پر شناخت کیا۔ اب ان کا مقصد آئی ایم انکلوسیو ڈاٹ کام کو ایم ای این اے کا مؤثر ترین آن لائن پورٹل بنانا ہے جس میں سیکھنے کے ڈیجیٹل مواد اور معذور افراد کو شامل کرنے کے وسائل کے لیے آجروں تک رسائی میسر ہو۔

انہوں نے کہا۔ "یہ سفر خاندان کے کسی معذور رکن کے ساتھ رہنے والے فرد کے طور پر بے دخلی اور تنہائی کو جاننے سے متاثر ہوا ہے۔ میں جانتی تھی کہ کسی تبدیلی کی ضرورت تھی اور یہ اتنا اہم تھا کہ میں زندگی میں اسے نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔"

انہوں نے مزید کہا۔ " تاہم جب احمد اور میں نے 2019 میں آئی ایم انکلوسیو کا آغاز کیا تو ہم اپنے وقت سے بہت آگے تھے – آجر شمولیت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس لیے ہم 2020 سے کمیونٹی اقدامات اور امیدواروں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ملازمین کو تیار کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اب پورے متحدہ عرب امارات اور وسیع تر جی سی سی میں زیادہ آجر معذور افراد کو اپنی افرادی قوت میں شامل کرنے کے لیے تیزی سے خواہشمند ہیں۔

2022 میں آئی ایم انکلوسیو ایک مکمل سماجی کاروبار کے طور پر ابھرا جس کی تصدیق اتھارٹی آف سوشل کنٹریبیوشن، معن نے سرٹیفیکیٹ کی صورت میں کی اور اسے اقوام متحدہ میں تسلیم کیا گیا۔

قدیر نے کہا۔ "آئی ایم انکلوسیو میں پرعزم لوگ قیادت کرتے ہیں اور یہی وہ چیلنج ہے جس سے پورے ایم ای این اے میں نمٹنا میرا مقصد ہے۔ عزم کے حامل لوگ قیادت کر سکتے ہیں، کرتے ہیں اور کریں گے اور تبدیلی کے کئی ایجنٹوں کو افواج میں شامل ہونے اور اسے ممکن بنانے کے لیے جگہ پیدا کرنے کی ضرورت ہو گی۔"

احمد قدیر جو اب اپنی بہن کے ساتھ آئی ایم انکلوسیو میں بھی کام کرتے ہیں، نے کہا کہ عزم کے حامل لوگ کسی بھی کمیونٹی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا۔ "سب کی شمولیت اور کام کے بغیر ہمارے پاس مکمل طور پر فعال معاشرہ نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے آج کے دن اور دور میں جہاں ہر کوئی رواداری کو فروغ دیتا نظر آتا ہے، ہم نے ابھی تک اس حقیقت کو قبول کرنا نہیں سیکھا ہے کہ معذوری کی شمولیت صرف ایک "اچھا نیک مقصد" نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "جب ہم نے آغاز کیا تو حفصہ اور میں نے یہ سمجھنے کے لیے کافی تحقیق کی کہ کیوں معذور افراد کو اکثر گفتگو سے باہر رکھا جاتا ہے اور اب ہمارے پاس آئی ایم انکلوسیو کے لیے ایک مضبوط ٹیگ لائن ہے: 'شمولیت کوئی بعد کی سوچ نہیں ہے'۔"

احمد کے مطابق ان کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کاروبار معذور افراد کو بطور گاہک اور ملازمین پہچانیں اور قائدین، سی ایچ آر او اور سی ای او سے لے کر ٹیم کے ہر ممبر کو شامل کرنے کے مشن کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا۔ "اگر کسی نے اسکول میں معذوری کے بارے میں نہیں سیکھا تو انہیں کام کی جگہ پر ایک ہنر کے طور پر معذوری کو شامل کرنے کے بارے میں ضرور سیکھنا چاہیے۔"

احمد نے مزید کہا، "جبکہ ہمارے کام کا ایک پہلو امیدواروں کو آجروں سے ملنے کے لیے تیار کرنا ہے (معذوری کے ساتھ ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے ایک مفت سروس) تو ہمارا بنیادی کاروبار معذوری کی شمولیت پر آجروں کی تیاری اور معذور ملازمین کا استقبال کرنا ہے۔"

آئی ایم انکلوسیو میں مواقع کی ڈائریکٹر کے طور پر سائرہ سید جو عضویاتی عضلاتی نقائص – ایسی نایاب جینیاتی بیماری جو اعضاء میں عضلات کی بڑھنے والی کمزوری کا باعث بنتی ہیں – کی تشخیص کے بعد وہیل چیئر پر انحصار کرتی ہیں، ان کا مقصد بھی معذوری کو شامل کرنا ہے۔ وہ معذور افراد کو ملازمت کے مواقع سے جوڑنے کے لیے آجروں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

سید نے العربیہ کو بتایا کہ عام غلط فہمیاں معذوری کے حامل ممکنہ ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں پائی جاتی ہیں – جس میں "غیر مرئی" معذوری جیسے کہ دماغی صحت کے عارضے میں مبتلا افراد کے گرد موجود بدنما داغ کو دور کرنا بھی شامل ہے۔

سید نے مزید وضاحت کی۔ "حقیقت میں 71 فیصد معذوریاں پوشیدہ ہوتی ہیں اور صرف ان لوگوں کو معذور افراد کے طور پر پہچاننا جو وہیل چیئر کے پابند ہیں ایک بہت پرانا طریقہ ہے۔ آئی ایم انکلوسیو آجروں کو معذوری کی ہر مختلف رینج کے لیے ملازمت کے کردار کھولنے میں رہنمائی کرتا ہے۔"

فرسودہ تصورات کا خاتمہ

ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ عزم کے حامل لوگوں میں محدود ٹیلنٹ دستیاب ہے اور ملازمت صرف ابتدائی سطح کے کرداروں کے لیے کی جا سکتی ہے۔

سید کے مطابق آئی ایم انکلوسیو کے پاس اس وقت متحدہ عرب امارات، مصر، قطر اور سعودی عرب میں ٹیلنٹ کا ایک بڑا ڈیٹا بیس موجود ہے جو سنیارٹی کی مختلف سطحوں اور صنعتوں کے لیے دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلنٹ کی کوئی حد نہیں ہے اور بہترین امیدواروں کی تعداد کسی بھی وقت دستیاب ملازمتوں سے زیادہ ہے۔

سید نے یہ بھی کہا کہ بہت سے ممکنہ آجر غلط طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ جسمانی یا غیر جسمانی معذوری والے لوگ صرف دور دراز کے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی۔ "ملازمت کے متلاشیوں کو درکار تعاون اور معقول ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں آئی ایم انکلوسیو آجروں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اگرچہ گھر سے کام کرنا ایک بہترین ایڈجسٹمنٹ ہے لیکن ہر کسی کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی اور کچھ افراد یقیناً دفتر سے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔"

کمپنی اس یقین کے خاتمے کے لیے بھی کام کرتی ہے کہ معذور افراد کو کم معاوضہ دیا جانا چاہیے اور ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس زیادہ صلاحیت ہونی چاہیے۔

سید نے کہا۔ "آئی ایم انکلوسیو میں ملازمت کا ہر متلاشی ایک ایسے مساوی موقع کی تلاش میں ہے جو کام کی جگہ پر انفرادی طور پر مناسب تعاون کی اجازت دے بشمول مساوی تنخواہ اور کام کے منصفانہ اوقات۔" سید نے مزید کہا کہ ملازمت کے متلاشی معذور افراد اپنے پیشے سے وہی توقعات رکھتے ہیں جیسے کوئی دوسراملازم۔

سید نے کہا کہ آئی ایم انکلوسیو اس فرسودہ تصور کو ختم کرنے کے لیے بھی کام کرتا ہے کہ کام کی جگہ پر معذوری کی شمولیت کاروباری سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کا ایک حصہ ہے۔

انہوں نے نشان دہی کی۔ "معذوری کی شمولیت کوئی خیراتی کام نہیں ہے - یہ دنیا کی تقریباً 51 فیصد آبادی کے بارے میں ہے جو بالواسطہ یا بالواسطہ طور پر بے دخلی کے منفی تجربے کے ساتھ زندگی گذار رہی ہے۔" انہوں نے مزید استدلال کیا کہ یہ ایک پیمائش شدہ، طویل مدتی عہد ہے جس کی حکمت عملی بنانے، رپورٹ کرنے اور کاروباری ادارے کے تمام محکموں کے لیے اس کے اپنے بجٹ کی ضرورت ہے۔

سید نے کہا۔ "جو آجران معذوری کی شمولیت کے سفر کا آغاز کرنے کے خواہاں ہیں، انہیں 360 روزگار کی خدمات فراہم کرنے کے مقصد کے ساتھ آئی ایم انکلوسیو آجروں اور تنظیموں کو مسائل کا حل، کام کے طریقے اور ملازمین اور تنظیموں کو رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ افرادی قوت کے لیے آزاد اور طویل مدتی شمولیت کی حکمت عملی کیسے تیار کی جائے۔

شمولیتی روزگار کے لیے ایک ون اسٹاپ شاپ کے طور پر آئی ایم انکلوسیو آجروں کی مدد کے لیے موزوں مشاورت پیش کرتا ہے کہ کام کی جگہ پر جامع ملازمت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کیسے دور کریں۔

ایک پرعزم شخص جس کی آئی ایم انکلوسیو نے مدد کی ہے وہ یمنی نوف علی عوض با صالح ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں پیدائش اور پرورش پانے با صالح کو ان کے موجودہ آجر – یو اے ای میں ایک عالمی ویزا سلوشن سینٹر – سے آئی ایم انکلوسیو نے ملایا۔

انہوں نے اے ون العربیہ کو بتایا کہ "جو کمپنی شمولیت کو اہمیت دیتی ہے، اس کے لیے کام کرنا بہت زبردست تجربہ تھا۔ میرا آجر حقیقی طور پر اپنے تمام ملازمین کے لیے تنوع، احترام اور مساوات کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے اپنے آجر کی طرف سے معاون ٹیکنالوجیز اور ٹولز کے حوالے سے جو حیرت انگیز سپورٹ ملتی ہے اس نے مجھے اپنے کردار کو بطور آفیسر آف آپریشنز بہتر بنانے میں مدد کی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "وہ رسائی کو یقینی بناتے ہیں اور کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ضروری سہولت فراہم کرتے ہیں جس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کام کی ایسی جگہ جو اپنے ملازمین کی کارکردگی کو اہمیت دیتی ہو، وہاں پر موجودگی واقعی بااختیار بناتی اور مشکلات سے آزاد کرتی ہے۔"

کام کے لچکدار اوقات سے لے کر وسائل کی فراہمی تک با صالح کے آجر نے پیشہ ورانہ کردار میں ترقی اور ان کی صلاحیتوں کو مزید فروغ دینے میں مدد کی ہے۔ با صالح نے مزید کہا۔ "میرا آجر کھلے ابلاغ کی حوصلہ افزائی اور ہر ایک کے منفرد نقطہ نظر کی قدر کرتا ہے۔ اس سے ایک مثبت ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں میں صحیح معنوں میں کامیاب ہو سکتی ہوں۔"

ایک پرعزم شخص، 23 سالہ اماراتی زہرہ غلام علی کو بھی آئی ایم انکلوسیو کے ذریعے ملازمت ملی اور اب وہ یو اے ای کے سب سے بڑے لگژری ریٹیل کمپنیز میں سے ایک کے لیے فیشن کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔

علی نے کہا۔ "مجھے کسی رکاوٹ یا غلط فہمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور میرا اب تک کا سفر آئی ایم انکلوسیو کے تعاون سے قریب سے منسلک ہے۔ میں جس ریٹیل گروپ کے لیے کام کرتی ہوں وہ بہت سے پرعزم لوگوں کو ملازمت دیتا ہے۔ اس لیے جب تک میں متحدہ عرب امارات میں ٹیم میں شامل ہوئی تو ان کے لیے مجھ جیسے لوگوں کو ملازمت دینا کوئی نئی بات نہیں تھی۔"

لوگوں سے ملنے میں ان کے جوش وخروش اور روزمرہ کی بات چیت نے ان کی جاب پروفائل بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا۔ "میں صارفین کی مصنوعات کی ضروریات کے بارے میں انہیں مشورہ دیتی ہوں اور ان کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے کے عمل سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔ امید ہے کہ وہ مجھے کسی ایسے شخص کے طور پر یاد رکھیں گے جس نے انہیں معیاری مدد اور بڑی مسکراہٹ کی پیشکش کی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں