سعودی خواتین فٹ بال میں تاریخ رقم کر رہی ہیں: نائب صدر فٹ بال فیڈریشن

صرف 2022 میں، 2021 کے مقابلے میں رجسٹرڈ خواتین کھلاڑیوں کی تعداد میں 86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب میں خواتین فٹ بال کے شعبے میں"ریکارڈ توڑ رہی ہیں" اور ''ہم تاریخ رقم کر رہے ہیں۔'' سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن کی پہلی خاتون نائب صدر لمیاء بہیان نے جمعہ کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فیفا خواتین کے فٹ بال کنونشن میں خطاب کے دوران کہا۔

“جب سعودی عرب میں خواتین کے فٹ بال کی بات آتی ہے تو ہم ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ تاریخی ہوتا ہے، یہ رکاوٹوں کو توڑ کر اور خواتین کے لیے فٹ بال میں ایک نئے دور کا آغاز ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگرچہ ہم اپنے سفر میں ایک مختلف مرحلے پر ہیں، ہمیں اپنی ترقی کی رفتار پر خوشی اور فخر ہے۔"

حالیہ برسوں میں، سعودی عرب نے خواتین کے لیے فٹ بال میں اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں، جن میں ویمنز پریمیئر لیگ، ویمنز فرسٹ ڈویژن لیگ کا قیام اور مختلف سطحوں پر پھیلی ہوئی مختلف قومی ٹیموں کی بنیاد رکھنا شامل ہے۔

صرف 2022 میں، 2021 کے مقابلے میں رجسٹرڈ خواتین کھلاڑیوں کی تعداد میں 86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، فیڈریشن کے مطابق خواتین فٹ بالروں کی تعداد 374 سے بڑھ کر 694 ہو گئی۔

اسی عرصے کے دوران قومی سطح پر خواتین کے کلبوں کی تعداد میں بھی 56 فیصد کا اضافہ ہوا، جو 2021 میں 16 فیصد سے 25 فیصد تک تھا۔

فٹ بال کے لیے منعقد کیے گئے کوچنگ کورسز کی تعداد میں بھی 557 فیصد اضافہ ہوا جو 2021 میں 7 سے 46 فیصد تک تھا۔

48,000 سے زیادہ کھلاڑیوں اور 3,660 ٹیموں نے 2022/23 سکولز لیگ میں میں حصہ لیا۔ یہ سبھی ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو اجاگر کرتے ہیں جو آنے والے سالوں میں کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔

فیڈریشن کے پاس 90 خواتین ریفری، 1,000 سے زیادہ کوالیفائیڈ کوچز اور 20 ممالک کی 50 بین الاقوامی کھلاڑی بھی ہیں، جو ویمنز پریمیئر لیگ میں حصہ لے رہی ہیں۔

سعودی خواتین کی قومی ٹیم پانچ ماہ قبل پہلی بار فیفا کی درجہ بندی میں داخل ہوئی تھی، اس کے ساتھ ہی انود الاسماری فیفا کی جانب سے تسلیم شدہ پہلی سعودی خاتون بین الاقوامی ریفری بن گئی تھیں۔

فیڈریشن نے مقامی خواتین فٹ بال کلبوں کے لیے $13 ملین سے زیادہ کی ایک نئی فنڈنگ اسکیم بھی متعارف کرائی ہے، تاکہ کلبوں کو ٹیلنٹ کو راغب کرنے، نئی ٹیمیں قائم کرنے اور سرکاری مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے مدد کی جائے۔


نچلی سطح سے لے کر پیشہ ورانہ لیگ تک کا سفر

لمیاء بہیان کے مطابق، مملکت میں خواتین کے لیے فٹ بال کا منظر نامہ پچھلے 15 سالوں میں کافی بدل گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سفر، کھیل کے لیے غیر متزلزل جذبے اور محبت کی وجہ سے شروع ہوا، اس کا آغاز خواتین کی ایک کمیونٹی لیگ کے ذریعے کیا گیا تھا جو اس کھیل کے بارے میں پرجوش تھیں۔

سعودی عربین فٹ بال فیڈریشن  کی نائب صدر لامیہ بہیان۔ فراہم کردہ
سعودی عربین فٹ بال فیڈریشن کی نائب صدر لامیہ بہیان۔ فراہم کردہ

فیڈریشن کی نائب صدر نے کہا کہ ''ایسوسی ایشن کی جانب سے خواتین کے فٹ بال کو ایک کامیاب، طویل مدتی حکمت عملی وضع کرنے کی کلید کے طور پر تسلیم کرنا بھی اس تبدیلی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور یہ سعودی عرب کے کھیلوں کے منظر نامے میں ذہنیت اور ترجیحات میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔''

انہوں نے مزید کہا کہ ''فٹ بال سعودی عرب کی ثقافت سے جڑا ہوا ہے، یہ صنفی رکاوٹوں سے بالاتر ہے۔''

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، 2015 میں مردوں اور عورتوں دونوں کی کھیلوں میں بڑے پیمانے پر شرکت 13 فیصد سے بڑھ کر 2022 میں 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مملکت میں 80 فیصد سے زیادہ آبادی فٹ بال کھیلتی ہے، اور اسے دیکھنا پسند کرتی ہے۔

ملیا نے فیفا کنونشن میں کہا کہ"یہ ورلڈ کپ حیرت انگیز رہا، خاص طور پر جب آپ ان تمام لڑکیوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو ایک دن فیفا ویمنز ورلڈ کپ میں کھیلنے کا خواب دیکھ رہی ہیں،"

"سعودی عرب میں لاکھوں لڑکیاں فٹ بال اور خواب دیکھ رہی ہیں۔ فٹ بال کے ذریعے، آپ بااختیار بناتے ہیں اور تعلیم دیتے ہیں۔ فٹ بال کے ذریعے، آپ رہنما اور رول ماڈل بناتے ہیں، اور ایسا کرنے کے لیے یہ بہترین پلیٹ فارم ہے،‘‘

ان کے مطابق، خواتین کی پریمیئر لیگ کا نچلی سطح سے اس کی موجودہ اچھی طرح سے منظم حالت تک ارتقاء ان خواتین کی شاندار لگن کی عکاسی کرتا ہے۔

"اگر ہم حقیقی ثقافتی تبدیلی چاہتے ہیں تو فٹ بال کمیونٹی کو تبدیلی کو آگے بڑھانے، ایک دوسرے کو سمجھنے، اختلافات کو قبول کرنے، اور باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے کے لیے پورے دل سے تعاون کرنا چاہیے۔ ''

دستاویزی فلم کی پیشکش

سڈنی سیشن میں، سعودی فٹ بال فیڈریشن نے فیفا کے اشتراک سے بنی ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی۔

اس دستاویزی فلم میں سعودی عرب کی اہم کھلاڑیوں کے سفر کا حوالہ دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ثقافتی تبدیلیوں، تاثرات کی از سر نو تشکیل اور دقیانوسی تصورات کو ختم کرنے کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔

اس بارے میں نائب صدر نے کہا کہ یہ"دستاویزی فلم ہماری ان کہی کہانی سے پردہ اٹھاتی ہے اور اہم سعودی خواتین کھلاڑیوں کو متعارف کراتی ہے، جس کا مقصد لڑکیوں کو نہ صرف سعودی عرب میں، بلکہ پوری دنیا میں اپنے اختلافات کو قبول کرنے اور فٹ بال کے لیے اپنی مشترکہ محبت کے ذریعے متحد کرنے کی ترغیب دینا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں