فلسطینی اتھارٹی کی یروشلم میں یہودی بستیوں کی بھرمار کے نئے منصوبے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطینی اتھارٹی نے مشرقی یروشلم کو ترقی دینے کےنام نہاد اسرائیلی منصوبوں کی شدید الفظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس کی تعمیرو ترقی کی آڑ میں آباد کاری کے لیے ایک ارب ڈالر کا اسٹریٹیجک پلان تیار کیا ہے۔

اس منصوبے پر ایک بیان میں فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ اس کا مقصد یروشلم میں یہودیوں کو بسانے کی سرگرمیوں کو تیز کرنا اور تمام شعبوں میں اس کی القدس کی خصوصیات کو تبدیل کرنا ہے۔ فلسطینیوں کی قدرتی آبادی میں اضافے کو محدود کرنا، فلسطینی اسکولوں پر اسرائیلی نصاب کو نافذ کرنا اور یہودی آباد کاری کو پھیلانا شامل ہے۔ ہم القدس کو یہودیانے کے تازہ اسرائیلی منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ القدس کے حوالے سے اسرائیل کے منصوبوں کا مقصد شہر کو اسرائیل میں ضم کرنا اور اس کے سیاسی مستقبل کو یکطرفہ طور پر حل کرتے ہوئے اسے اسرائیلی ریاست کا حصہ بنانا ہے تاکہ مستقبل میں القدس کو کسی بھی قسم کے مذاکرات سے الگ کیا جائے۔ اس منصوبے کے واضح توسیع پسندانہ اور نسل پرستانہ استعماری مقاصد ہیں،اس سے فلسطینیوں کی زمینوں کو ضبط کرنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائےگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں