دبئی ایئرپورٹ پر 2023 کی پہلی ششماہی میں مسافروں کی آمد ورفت میں 49 فیصد اضافہ ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دبئی ایئر پورٹس کے آپریٹر نے منگل کو کہا کہ دبئی کے مرکزی ایئر پورٹ نے سال کی پہلی ششماہی میں مسافروں کی آمد ورفت میں 49 فیصد اضافے کے بعد یہ تعداد اب 41.6 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ مسافروں کی یہ تعداد وبائی امراض سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے۔

آپریٹر نے کہا کہ دوسری سہ ماہی نے 2019 کی پہلی ششماہی میں آمد و رفت کی تعداد کی بحالی میں 100 فیصد سے ذرا زیادہ اضافہ کیا جو 2022 کی دوسری سہ ماہی سے تقریباً 43 فیصد بڑھ کر 20.3 ملین مسافروں تک پہنچ گئی۔

مشرق وسطی کا سیاحتی اور تجارتی مرکز دبئی وبائی امراض کے بعد دوبارہ جلد کھل گیا تھا۔ روسیوں اور کاروباری پیشہ ور افراد کی آمد اور سماجی اور ویزا قوانین میں نرمی کے ساتھ اس مرکز کے دوبارہ کھل جانے سے اقتصادی بحالی میں مدد ملی جس نے جائیداد کی قیمتوں اور کرایوں میں بھی اضافہ دیکھا ہے۔

چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ دبئی ایئر پورٹس کی 2023 کے لیے پیشن گوئی 83.6 ملین سے بڑھ کر 85 ملین مسافروں کی ہو گئی ہے جو "2019 میں ڈی ایکس بی (دبئی انٹرنیشنل) کی سالانہ ٹریفک سے محض 1.6 فیصد کم ہے۔"

انہوں نے کہا۔ "ہم نے جولائی میں دوسرے نصف کا آغاز زیادہ طلب کے ساتھ کیا اور ہم سال کے بقیہ غیر معمولی مصروف حصے کے لیے تیاری کر رہے ہیں کیونکہ اگست میں اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے ساتھ موسمی سیروسیاحت بھی عروج پر ہے۔"

دبئی ایئرپورٹس نے فروری میں کہا کہ گذشتہ سال ڈی ایکس بی کی مسافروں کی سالانہ آمدورفت 66.1 ملین تھی۔

ایئرپورٹ نے پہلی ششماہی میں 201,800 پروازیں چلائیں جو سال بہ سال 30.2 فیصد زیادہ ہیں۔ 6.9 ملین مسافروں کے ساتھ دوسری سہ ماہی کا مصروف ترین مہینہ مئی کا تھا۔

پہلی ششماہی میں 6 ملین مسافروں کے ساتھ ٹریفک کے لحاظ سے ہندوستان کا ملک ڈی ایکس بی کی سرِفہرست منزل تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب 3.1 ملین کے ساتھ، برطانیہ 2.8 ملین کے ساتھ اور پاکستان 2 ملین کے ساتھ تھا۔ امریکہ، روس اور جرمنی کے بالترتیب 1.8 ملین، 1.3 ملین اور 1.2 ملین مسافر تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں