مہنگائی کے عفریت سے شامی بچے سب سے زیادہ متاثر، ہزاروں تعلیم سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام کی وزارت تعلیم نے ستمبر کی 3 تاریخ کو نئے تعلیمی سال کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ مگر جوں جوں بچوں کے اسکول جانے کے دن قریب آرہے ہیں والدین کی فکر میں اضافہ ہورہا ہے۔

کیا وہ غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں شامی لیرہ کی گرتی ہوئی قدر اور گراوٹ کی وجہ سے ملک کو درپیش معاشی بحران کے سائے میں اپنے بچوں کے ضروری اخراجات پورا کر سکتے ہیں؟

امریکی ڈالر کے مقابلے میں شامی لیرہ کے 16,000 سے تجاوز کرنے کے بعد، سٹیشنری، سکول کے کپڑوں اور بستوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جو زیادہ تر والدین کے لیے بے حد تشویش کا باعث ہے۔

ن میں سے بعض نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے اخراجات ان کی استطاعت اور ماہانہ آمدنی سے باہر ہو گئے ہیں، خاص طور پر چونکہ حکومت غریب خاندانوں کو کوئی مالی امداد فراہم نہیں کرتی ہے۔

رشتہ داروں کی مدد

حلب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا کہ "میں اپنے بچوں کے لیے اسٹیشنری، کپڑوں اور بیگوں کی قیمت برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ ان کی قیمت تقریباً 10 لاکھ 10 ہزار شامی لیرہ ہے، جب کہ بطور ملازم میری ماہانہ تنخواہ 250 ہزار لیرہ سے زیادہ نہیں ہے، اور اس کے لیے میں نے ملک سے باہر رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے مدد مانگی ہے۔

ان کے تین بچے ہیں، جن میں سے دو پرائمری اور تیسرا مڈل اسکول میں ہیں۔

شامی بچے سکول جاتے ہوئے۔ [اے ایف پی]
شامی بچے سکول جاتے ہوئے۔ [اے ایف پی]

انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ "اس سال قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، لیکن اسکول کا سامان خریدنا ناگزیر ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ وہ جرمنی میں مقیم اپنی بہن سے مالی امداد حاصل کرنے کے بعد بیگ، کپڑے اور اسٹیشنری خریدنے کے قابل ہوئے ہیں۔

جو لوگ بیرونی امداد نہیں حاصل کر پاتے وہ پرانے کپڑے اور سامان دوبارہ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

حلب سے تعلق رکھنے والی ایک 39 سالہ خاتون نے بھی تصدیق کی کہ "زیادہ قیمتوں کی وجہ سے انہوں نے پرانے کپڑے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔"

انہوں نے مزید کہا، "میرے شوہر ایک سرکاری ملازم ہیں، اور وہ اپنی ماہانہ تنخواہ سے ہماری تمام ضروریات پوری نہیں کر سکتے، ان کی تنخواہ 15 ڈالر تک ہے۔"

محدود فروخت

مقامی ذرائع کے مطابق، شام میں جاری جنگ اور خاندانوں کی نقل مکانی کے بعد سے اسکول کے سامان کی قیمتوں کی وجہ سے سالانہ ہزاروں شامی بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔

حلب کے ایک تاجر نے کہا کہ "سٹیشنری، کپڑوں اور تھیلوں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ مگر کرنسی کی ریکارڈ قدر گرنے سے فرق پڑا ہے۔ مثال کے طور پر، دو ڈالر کی چیز اب بھی اسی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، جو کہ مقامی کرنسی میں حد سے زیادہ معلوم ہوتی ہے"

وسطی حلب میں ایک دکان کے مالک نے العربیہ کو بتایا کہ "مختلف خاندان اپنے بچوں کے لیے اسکول کا کم سے کم سامان خرید رہے ہیں۔ وہ پچھلے سال کے بستوں اور کپڑوں پر انحصار کرتے ہیں، اور صرف اسٹیشنری خریدتے ہیں، اس لیے فروخت محدود ہوگئی ہے۔"

6 فروری کو جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں آنے والے زلزلے کے بعد سے اسکولوں کی تباہی اور مخدوش ڈھانچوں کے باعث تعلیم کا شعبہ ایک نئے مسئلے سے دوچار ہے، خاص طور پر حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں۔

عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں حلب کے مشرقی محلوں میں بہت سے اسکولوں کو نقصان پہنچا، لیکن حکومت نے ابھی تک ان کی بحالی کا انتظام نہیں کیا، جس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ان علاقوں کے بچے تعلیم سے محروم رہیں گے۔

اگرچہ حکومت نے اسکولوں کے کھلنے کی تاریخ کا اعلان کیا ہے، لیکن شمالی اور مشرقی شام کی خود مختار انتظامیہ نے ابھی تک اپنے علاقوں میں تعلیمی سال کے آغاز کا اعلان نہیں کیا ہے۔

اسی طرح ’’اپوزیشن‘‘ نے اپنے علاقوں میں تعلیمی سہولیات کھولنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں