’کام کے دوران لوگوں کو پتا نہیں چلتا کہ میری ایک ٹانگ اسٹیل کی ہے‘:طارق حمید

اسٹیل کے پاؤں کے ساتھ معذوری کو شکست دینے والے باہمت سعودی نوجوان کی ہمت افروز کہانی اس کی اپنی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے طارق حمید کی ایک ٹانگ چھوٹی عمرمیں ایک حادثے میں کٹ گئی تھی مگراس نے معذوری کو اپنے کیریئر میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
یہ اس کی ہمت ہے کہ اسٹیل کی ایک ٹانگ کے ساتھ وہ پہاڑوں پرچڑھتا، گاڑی چلاتا،اونچے ٹاوروں پر جاتا اور سیلائن واٹر کنورژن کارپوریشن کے عملے میں شامل ہوکر تخلیقی صلاحیتوں کو بھرپور اور مثالی طریقے سے استعمال کررہا ہے۔

طارق الحمید 1419ھ میں مسجد میں نمازیوں کی امامت کرنے کےلیے اپنے چھوٹے سے گاؤں سے نکلے اور اس وقت وہ ایک ٹریفک حادثے میں پھنس گئے۔ان کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی تھی۔ وہ بچپن ہی سے اپنے گاؤں کی مسجد کے مؤذن اور امام تھے۔ علاج کے بعد وہ دوبارہ مسجد کی امامت کرنے لگے۔

والدین کی مدد اور ایوارڈ کا حصول

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی معذوری پر قابو پانے میں ان کی مدد کرنے والے سب سے اہم لوگوں میں ان کے والد اور والدہ اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں۔ اہل خانہ نے حمید کی ہمیشہ ہمت بڑھائی اور اسے باور کرایا کہ وہ حادثے سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ ابھی تک مضبوط ہیں جیسا کہ وہ تھے۔ تاہم طارق حمید کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے کی منفی ہمدردی سے متاثر ہوا، لیکن اس کے باوجود وہ جس بھی کام میں مخلص تھا وہ اسے بخوبی انجام دیتا ہے اور ہر جگہ اپنی پہچان بنانے کے قابل ہوگیا۔

طارق حمید کا سٹیل کا پاوں
طارق حمید کا سٹیل کا پاوں

اس نے مزید کہا کہ: "مجھے بچپن سے ہی ٹیکنالوجی پسند ہے۔ گھر اور مسجد کچھ چیزیں ٹھیک کرتے ہوئے میں پہلےبھی کئی بارگر چکا ہوں۔ مجھے بجلی کے جھٹکے بھی لگے۔ کھلونے توڑ کرانہیں عجیب و غریب شکلوں میں دوبارہ تیار کرنے کا بھی شوق رہا۔ شاید اسی شوق نے مجھے مائیکرو الیکٹرانکس کے شعبے میں آنے کا موقع فراہم کیا۔

ایک سوال کے جواب میں طارق حمید نے کہا کہ اس نے اپنی تعلیم مکمل کی اور کمپیوٹر مینٹیننس کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ اس کے لیے زندگی مختلف تھی۔ اس نے کہا: "میں دردناک ہمدردی کی توپ کے سامنے ہوں جس نے مجھے لفظ (جو میں کر سکتا ہوں) کا سامنا کرنے کے لیے ایک نہ بجھنے والا شعلہ بنا دیا۔ شاید میں اپنے بچپن سے معذوری سے پہلے اور بعد میں مختلف نہیں تھا۔ مجھے اپنے مقصد سے عشق ہے اور میں اسقامت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھتا ہوں۔ میں نے جازان ریجن کا امیر ایوارڈ ایکسی لینس جیت لیا۔

آپ کو جسمانی طاقت کی ضرورت ہے

الحمید نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ"میرے کام کی موجودہ نوعیت " میرے مزاج کے مطابق ہے۔ میں کھارے پانی کی تبدیلی کارپوریشن کےلیے کام کرتا ہوں۔ اپنے کام کے دوران میں کنٹریکٹس، پروکیورمنٹ، پروجیکٹ اسٹڈیز اور ادارے میں دیو ہیکل پراجیکٹس پر اپنی حقیقی مہارت کے مطابق کام کرتے ہوئے اہنی مہارت کا ثبوت پیش کرچکا ہوں۔

مصنوعی پاوں کے ساتھ
مصنوعی پاوں کے ساتھ

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پانی صاف کرنے کے کام کے ماحول کو ایک مشکل صنعتی ماحول سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر اس میں فیلڈ ورک کےلیے سفر اور جسمانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ "میری صلاحیت اور تجربہ ان شعبوں میں ہے جس کے لیے جسمانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ میرے آس پاس موجود ہر شخص کو اس کے بارے میں نہیں معلوم۔ اس لیے ہے کہ میرے پاس وہ طاقت اور خوداعتمادی ہے اور میں نے مشکل ترین ماحول میں کام کیا۔ میں نے پہاڑوں سے پانی کی ترسیل کی لائنوں کے بیچ میں کام کیا کیونکہ میں اس کے لیے ایک پروجیکٹ کا ممبر تھا۔ اس دوران بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ میری ایک ٹانگ اسٹیل کی ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں