مکہ مکرمہ طوفان کی زد میں، سیلاب میں ڈوب کر ایک شخص ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مکہ مکرمہ میں منگل اور بدھ کی صبح گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش ہوئی جس سے ایک شخص ڈوب کر ہلاک ہوگیا اور آسمانی بجلی کی ڈرامائی کڑک نے تباہی مچادی۔

مینا ایلیمنٹری سکول کے استاد محمد الطوائم سیلابی پانی کی زد میں آنے کے بعد اپنی گاڑی سے نکل کر بھاگنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

 22 اگست 2023 کی ایک تصویر میں سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے کلاک ٹاور پر آسمانی بجلی کڑکتی نظر آ رہی ہے۔ (حماد الحتھالی / اے ایف پی)

جب امتیازی نشان کے حامل فیئرمونٹ مکہ کلاک رائل ٹاور ہوٹل پر آسمانی بجلی گری تو زائرین مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا طواف کرنے کی کوشش میں تھے۔ بجلی کڑکنے سے رات کے وقت آسمان روشن ہوگیا۔ قومی مرکز برائے موسمیات کے ترجمان حسین القحطانی نے کہا کہ طوفان سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں اور 24 گھنٹوں میں 45 ملی میٹر بارش ہوئی۔

مسجد کے باہر موجود زائرین شدید آندھی کی وجہ سے لڑکھڑا کر گر گئے جس سے ہجوم کی رکاوٹیں فرش پر گر گئیں کیونکہ بارش کے پانی سے پھسلن ہو گئی تھی۔ مکہ کے رہائشی محمد جو طوفان کے عروج کے وقت اشیائے خورونوش کی خریداری کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "منظر بہت خوفناک تھا۔ سب کچھ چند ہی منٹوں میں ہوا جب ایک غیر معمولی بارش شروع ہو گئی۔"

ایک اور رہائشی ابو مایادہ سگریٹ اور پیٹرول خریدنے کے لیے باہر نکلے تھے جب طوفان آیا۔ انہوں نے کہا۔ "شدید تباہ کن طوفان کے باعث 'میرے سامنے سب کچھ سیاہ ہوگیا۔' اچانک میں گاڑی پر سے کنٹرول کھو بیٹھا۔ مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا تو میں نے ریڈیو پر قرآن سننا شروع کر دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا تھا۔"

مکہ مکرمہ گورنریٹ نے کہا کہ اسکول بند رہیں گے اور "ہر کسی کی حفاظت کے مفاد کے پیشِ نظر" ای لرننگ پلیٹ فارم پر کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا۔

محکمۂ موسمیات نے مکہ مکرمہ اور مغربی سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں مزید طوفانوں سے خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں