شامی فوج کی بمباری سے اپوزیشن کے زیر قبضہ علاقہ میں 7 شدت پسند ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں فوج کی اپوزیشن کے زیر قبضہ علاقے میں بمباری سے 7 شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ جنگ کی نگرانی کرنے والے ایک ادارے نے بتایا کہ شام میں اپوزیشن کے آخری اہم گڑھ میں بڑھتے ہوئے تشدد کے درمیان حکومتی فورسز نے بمباری کی ہے جس میں 7 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ حلب صوبے میں حکومت کی طرف سے کی گئی دوہری بمباری میں ’’حیات تحریر الشام‘‘ کے 7 جنگجو مارے گئے۔ ایچ ٹی ایس گروپ کی قیادت شام کے سابق القاعدہ سے وابستہ رہنما کر رہے ہیں۔ یہ گروپ صوبہ ادلب کے ساتھ ساتھ حلب، حما اور لطاکیہ کے کچھ حصوں پر بھی کنٹرول رکھتا ہے۔

برطانیہ میں قائم آبزرویٹری نے کہا کہ شامی فوج نے ابتدائی طور پر صوبے کے مغرب میں گروپ کی ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ جب ایک دوسری کار ہلاک افراد اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے پہنچی تو اس پر بھی بمباری شروع کردی گئی۔

آبزرویٹری کے مطابق اپوزیشن کے گڑھ ادلب میں حالیہ ہفتوں میں تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بدھ کے روز شام کی وزارت دفاع نے بتایا تھا کہ فوج اور روسی فضائیہ نے اپوزیشن کے زیر قبضہ حصوں پر بار بار حملوں کے بعد حلب، لطاکیہ اور حما کے دیہی علاقوں میں دہشت گردوں کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ اس دوران فضائی بمباری کی گئی اور توپ خانہ سے حملے کئے گئے۔

آبزرویٹری نے کہا کہ بدھ کے روز بھی ایچ ٹی ایس اور اس سے منسلک دھڑوں کی طرف سے صوبہ لطاکیہ میں بمباری میں شامی فوج کا ایک افسر ہلاک اور ایک شہری زخمی ہوا تھا۔ یاد رہے شام میں 2011 سے جنگ شروع ہے اور اس اندوہناک لڑائی میں میں نصف ملین سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس جنگ کے باعث شام کی لگ بھگ نصف آبادی بے گھر ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں