امریکی ’سی آئی اے’ کے ہاتھوں ایرانی وزیراعظم محمد مصدق کا تختہ الٹے 70 سال بیت گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اگست 1953ء میں امریکی سی آئی اے کی قیادت میں ایک بغاوت نے ایرانی وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹ کر ملک کے بادشاہ کے سامنے سے آخری کانٹا بھی صاف کردیا جس کے بعد 1979 کے انقلاب تک 25 شاہ محمد رضا شاہ پہلوی بلا شرکت غیرے ایران میں سیاہ اور سفید کےمالک رہے۔

شاہ کی فوج اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کی طرف سے بغاوت اس وقت ہوئی تھی جب وزیر اعظم مصدق نے ملک کی تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت جنوب مغربی ایران میں عبادان ریفائنری دنیا میں تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کار خارجہ تصور کی جاتی تھی۔ یہ ریفائنری برطانیہ کے لیے تیل کا ایک بڑا ذریعہ تھی۔ ایرانی تیل سے برطانیہ کا مفاد بھی وابستہ تھا جس کے لیے برطانوی حکومت کی طرف سے بھی بغاوت کی حمایت اور اس میں مدد کی گئی تھی۔

تہران میں 19 اگست 1953 کو وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹنے والی بغاوت کے بعد ایک کمیونسٹ اخبار کے کھوکھے کو شاہ نواز مظاہرین نے آگ لگا دی (اے پی)
تہران میں 19 اگست 1953 کو وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹنے والی بغاوت کے بعد ایک کمیونسٹ اخبار کے کھوکھے کو شاہ نواز مظاہرین نے آگ لگا دی (اے پی)

امریکیوں کے لیے جنہوں نے لاکھوں ڈالر کی رشوت، ہتھیاروں اور دیگر مراعات کے ساتھ اس ایران میں وزیراعظم کے خلاف بغاوت برپا کی ۔ یہ بغاوت واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں سوویت یونین کی کسی بھی توسیع کو روکنے کا بہترین موقع قرار دیا تھا۔

بغاوت کے وقت لوگوں کو اس بغاوت اور ہنگامہ آرائی میں ’سی آئی اے‘ کے کردار کا ذرہ برابر بھی اندازہ نہیں تھا لیکن اس کے بعد کے سالوں میں یہ تبدیلی صاف دکھائی دینے لگی تھی اور یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ ایران کے بہت سےمعاملات میں امریکا کھلم کھلا دخل اندازی کررہا ہے۔
سابق امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے پوتے کرمٹ روزویلٹ جونیئر نے ایران سے ’سی آئی اے‘ اسکیم کی قیادت کی اور بعد میں اس کے بارے میں ایک کتاب بھی شائع کی۔

بغاوت میں امریکی مداخلت نے شاہ کا تختہ الٹنے والوں کی دشمنی کو ہوا دی اور اگلے برسوں کے دوران ریاستہائے متحدہ امریکا نے حکومتی امور میں اس معاملے کی کوئی تفصیلات شائع کرنے سے گریز کیا۔

16 اگست 1953 کو وزیر اعظم محمد مصدق نے تہران، ایران میں شاہ نواز بغاوت کو ناکام بنانے کے اعلان کے بعد مظاہرین کا ہجوم پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہو گیا۔
16 اگست 1953 کو وزیر اعظم محمد مصدق نے تہران، ایران میں شاہ نواز بغاوت کو ناکام بنانے کے اعلان کے بعد مظاہرین کا ہجوم پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہو گیا۔

سنہ2017ء میں وزارت خارجہ نے خاموشی سے بغاوت کی تفصیلات شائع کیں جو کبھی اس کی سرکاری تاریخ را زتھیں، حالانکہ اس کے بعض پہلوؤں کو آج تک خفیہ رکھا گیا۔

بغاوت کے وقت تہران سے خبروں کی ترسیل میں بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا، چنانچہ ایک اخبار نے تفصیل سے شائع کیا کہ کس طرح خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے بغاوت کے بارے میں پہلی خبر بھیجی، لیکن اس نے گھنٹوں تک کچھ بھی نشر یا منتقل نہیں کیا۔

واشنگٹن ’ڈی سی‘ 19 اگست 1953 کو دی ایوننگ سٹار نے شام کے ایڈیشن میں لکھا کہ "ایسا لگتا ہے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس کو سنسر نے روکا ہے اور حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد دوبارہ کاروبار شروع کر دیا ہے۔"

مظاہرین کا ایک ہجوم تہران میں اس کے صدر دفتر کے اوپر ایران پارٹی کا بینر پھاڑ رہا ہے، 19 اگست 1953 (اے پی)
مظاہرین کا ایک ہجوم تہران میں اس کے صدر دفتر کے اوپر ایران پارٹی کا بینر پھاڑ رہا ہے، 19 اگست 1953 (اے پی)

اس کے بعد شائع ہونے والے اخباری مضامین میں اس وقت کے ایسوسی ایٹڈ پریس کے انداز کو برقرار رکھتے ہوئے کسی قسم کی غلطی کو درست کرنے کے لیے ترمیم کی گئی تھی۔ اس میں ایرانی دارالحکومت تہران کے نام اور وزیر اعظم محمد مصدق کے نام کے ساتھ ساتھ شاہ محمد رضا پہلوی کے نام کی املا شامل تھی۔

اس وقت کی تازہ ترین نشریات ٹیلی ٹائپ رائٹرز کے ذریعے تیار کی جاتی اور بھیجی جاتی تھیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس وقت اپنے بہت سے اہم مصنفین پر بھی انحصار کیا جن میں نیٹ پولویٹزکی شامل ہیں جنہوں نے 50 سال پر محیط اپنے کیریئر کے دوران ایک غیر ملکی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔

اس کے بعد شائع ہونے والے اخباری مضامین میں اس وقت کے ’اے پی‘ کے انداز کو برقرار رکھتے ہوئے کسی قسم کی غلطی کو درست کرنے کے لیے ترمیم کی گئی تھی۔

19 اگست 1953 کو محمد مصدق اور اس کی حکومت کا تختہ الٹنے والی بغاوت کے دوران شاہ کی وفادار افواج کے تہران ریڈیو کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے کے چند منٹ بعد ایک ٹینک (اے پی)
19 اگست 1953 کو محمد مصدق اور اس کی حکومت کا تختہ الٹنے والی بغاوت کے دوران شاہ کی وفادار افواج کے تہران ریڈیو کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے کے چند منٹ بعد ایک ٹینک (اے پی)

ابتدائی رپورٹ میں ریڈیو پر یہ الزامات بھی شامل تھے کہ وزیر خارجہ حسین فاطمی کو قتل کردیا گیا ہے حالانکہ وہ اس وقت روپوش تھے۔ بعد ازاں انہیں گرفتار کیا گیا اور ایک فوجی عدالت میں ان پر مقدمہ چلا کر انہیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

یہ انیس اگست کی تاریخ تھی جب وزیراعظم محمد مصدق اور بادشاہ کی اپنی اپنی وفادار پولیس اور فوج میں لڑائی چھڑی۔ تہران شہر کے مرکز میں شدید لڑائیاں ہوئیں۔ پولیس کی پہلی کوششوں اور شاہ محمد رضا پہلوی کی وفادار افواج مرکزی پولیس ہیڈ کوارٹر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی میں سیکڑوں اموات ہوچکی تھیں۔

27 ستمبر 1951 کو تیل کو قومیانے کے بارے میں اپنے حامیوں کے خیالات کا اعادہ کرنے کے بعد، تہران میں پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے ایک چوک میں موساد ہجوم کے کندھوں پر۔
27 ستمبر 1951 کو تیل کو قومیانے کے بارے میں اپنے حامیوں کے خیالات کا اعادہ کرنے کے بعد، تہران میں پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے ایک چوک میں موساد ہجوم کے کندھوں پر۔


ڈاکٹر مصدق اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ گئے جب کہ یہ دعویٰ کہا کہ مشتعل ھجوم نے وزیر خارجہ حسین فاطمی کومار ڈالا ہے۔

نیوز لیٹر نے شاہ سے جو روم میں تھے، واپس آنے کا مطالبہ کیا۔ سپاہ چوک میں سینکڑوں گولیاں مظاہرین کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بادشاہ کے حامیوں نے شہر کے مرکز میں کم از کم آٹھ عمارتوں کو جلا دیا۔

لندن میں لی گئی بریفنگ میں تہران میں مذکورہ بالا افراتفری کی کوئی تفصیل نہیں تھی اور ٹیلی گرام کو بلاک یا روک دیا گیا تھا، تاکہ معاملے کی فوری تصدیق نہ ہو سکے۔ اس صبح تہران سے آنے والے پیغامات میں دارالحکومت میں ہجوم کے تشدد اور پولیس کی فائرنگ کا اشارہ دیا گیا تھا۔

تاہم ان خطوط میں بتایا گیا ہے کہ پریشانی کی وجہ پولیس کی جانب سے موساد کے حامیوں جو قوم پرست اور کمیونسٹ تھے کو شاہ کے خلاف پرتشدد مظاہروں کو جاری رکھنے سے روکنے کی کوششیں تھیں۔

اس واقعے سے ایک ہفتہ قبل اتوار کے روزایران کے خوبصورت 33 سالہ حکمران شاہ محمد رضا پہلوی اپنی اہلیہ ثریا بیگم کے ہمراہ من پسند اور مغرب نواز جنرل فضل اللہ زاہدی کو وزیراعظم مقرر کرنے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد ملک سے فرار ہوگئے تھے۔

شاہ اور ملکہ روم پہنچے۔ تہران سے بھیجی گئی رپورٹ میں زاہدی کی بطور وزیراعظم تقرری کا ذکر کیا گیا تھا۔ ہاک چونچ والی ناک والا تیز مزاج شخص اپریل 1951 میں اقتدار میں آیا اور اس نے حکومت سے 30 ملین ٹن سالانہ تیل کی صنعت کو انگریزوں سے اپنے قبضے میں لینے کے قوم پرست مطالبات کو اپنایا۔ تقریباً نصف صدی تک ملک کا کٹرول سمنجھالا۔

اس سارے واقعے کو آج 70 سال بیت گئے ہیں۔ آج نہ مصدق اور نہ شاہ ایران بلکہ آج کا ایران برطانیہ اور امریکا کے خلاف خم ٹھونک کر کھڑا ہے۔ مگر عالمی اور مغربی پابندیوں نے ایرانی معیشت کا بھرکس نکال دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں