ایرانی فوج کی مشترکہ الیکٹرانک جنگی مشقیں اختتام پذیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی فوج کی "صوبے کے محافظوں کی ڈھال" کے نام سے مشترکہ الیکٹرانک جنگی مشقیں کامیابی سے مکمل کرلی ہیں۔ سرکاری اعلانات کے مطابق ان مشقوں میں مختلف فکسڈ اور موبائل الیکٹرانک زمینی اور فضائی جنگی نظام کا جائزہ لیا گیا۔ ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل عبد الرحیم موسوی کی موجودگی میں ملک کے وسط میں ایک بڑے علاقے میں مشقیں انجام دی گئیں۔

جنگی منظرنامے اور الیکٹرانک جنگی کارروائیاں ان مشترکہ اور خصوصی مشقوں میں عمل میں لائی گئیں۔ مشقیں فوج کی چار سٹریٹجک قوتوں کی شرکت سے پایہ تکمیل تک پہنچیں۔ ان مشقوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور فوج نے الیکٹرانک جنگ کے میدان میں کس حد تک پیش قدمی کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان مشقوں کے لیے 95 فیصد سے زیادہ منصوبہ بند اور متوقع پروگرام کامیابی کے ساتھ نافذ کیے گئے ہیں۔

مشقیں جمعہ کی صبح شروع ہوئیں۔ اس دوران فضائی اڈے کے لیے الیکٹرانک سپورٹ آپریشن کیا گیا جس میں لڑاکا طیاروں اور ڈرونز نے حصہ لیا۔

خبر ایجنسی ’’تسنیم‘‘نے لکھا ہے کہ مشقوں کے عمومی علاقے میں موجود الیکٹرانک ڈیفنس سسٹم نے بڑے اور چھوٹے دشمن کے ڈرونز کے خلاف سول ڈیفنس اور الیکٹرانک ڈیفنس آپریشنز کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ان مشترکہ مشقوں کے مقاصد میں ریڈیو کمیونیکیشنز اور ڈیٹا ٹرانسمیشن کی نشاندہی کرنا اور ان کی براہ راست ترسیل کرنا، چھوٹی اڑنے والی اشیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر تباہی کی کارروائیوں کو انجام دینا، ریڈار کے لیے الیکٹرانک پروٹیکشن آپریشنز اور زمینی ریڈار میں خلل ڈالنا شامل تھا۔

علاوہ ازیں ایئر فورس کے لڑاکا طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ایئر انٹرسیپشن آپریشنز کیے گئے۔ آرمی ایوی ایشن اٹیک ہیلی کاپٹر، جیمنگ آپریشنز، ریڈار ڈیسیپشن اور الیکٹرانک پروٹیکشن 5 ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے رکاوٹ اور عمودی دھوکہ دہی کی کارروائیاں کی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں