داعش کا رکن بغداد کے ہوٹل سے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی وزارتِ داخلہ نے داعش کے ایک رکن کو بغداد میں واقع ایک ہوٹل سے گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور اس پر دہشت گرد تنظیم کے لیے انٹیلی جنس جمع کرنے کا مشن انجام دینے کا الزام لگایا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اور صرف یہ بتایا گیا ہے کہ اسے ’’سیاحتی انفراسٹرکچر کی حفاظت پر مامور انٹیلی جنس یونٹس‘‘ نے حراست میں لیا ہے۔

بیان کے مطابق اس پرالزام ہے کہ اس نے شدت پسندوں کوعراق کے شمالی صوبہ نینوا میں سکیورٹی فورسز کے ارکان کے بارے میں ذاتی معلومات فراہم کی ہیں اوراس شخص نے داعش کا رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

واضح رہے کہ داعش نے 2014 میں عراق اور ہمسایہ ملک شام کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اوراپنی خودساختہ ’خلافت‘ کا اعلان کیا تھا اور اپنے زیرنگیں علاقوں میں سفاکانہ انداز میں حکومت کی تھی۔2017 کے آخر میں امریکا کی قیادت میں فوجی اتحاد کی حمایت یافتہ عراقی فوج کے ہاتھوں داعش کو شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا اور عراق اور شام میں ان کے زیرقبضہ علاقے واگزار کرالیے گئے تھے۔

تاہم،انتہاپسند گروہ کے جنگجو اب بھی فوج اور پولیس پر دوردراز علاقوں میں وقفے وقفے سے حملے کرتے رہتے ہیں۔جولائی میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عراق اور عرب جمہوریہ شام میں داعش کے پانچ سے سات ہزار ارکان ہیں۔ان میں زیادہ تر جنگجو ہیں۔وہ خفیہ کمین گاہوں میں روپوش ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں