احمدی نژاد کا خود پر قاتلانہ حملے کا دعویٰ، اضافی سکیورٹی کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ملک کے سکیورٹی حکام کو ایک پیغام بھیجا ہے، جس میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ انہیں[احمدی نژاد] کو قتل کرنے متعدد بار کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے کسی وقت بھی جان سےمارا جا سکتا ہے۔ اس لیے مجھے اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے۔

احمدی نژاد نے "ٹیلیگرام" پر "اسپرنگ اسٹیٹ" چینل کے ذریعے پہلی بار اپنے قتل کی کوشش کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے اپنی حفاطت کے لیے اضافی سکیورٹی اور احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

قاتلانہ حملے کا خوف

احمدی نژاد اور ان کے سیاسی گروپ کے ترجمان چینل نے کہا کہ "پچھلے دور کے دوران عملی اقدامات ڈاکٹر احمدی نژاد کو قتل کرنے کی منظم کوشش کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔"

جبکہ سابق صدر کے حامی اس خبر کو کافی تشویش سے دیکھ رہے ہیں۔

احمدی نژاد ایرانی حکومت کے چھٹے صدر ہیں اور اکبر ہاشمی رفسنجانی کے خلاف 2005 کے صدارتی انتخابات میں ان کی جیت حیران طور پر سامنے آئی تھی۔ اس وقت حکومت پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ احمدی نژاد کو جتوانے کے لیے حکومت نے الیکشن کے عمل میں مداخلت کی تھی۔

2009 میں وہ اصلاح پسند رہنما میر حسین موسوی اور مہدی کروبی سے پہلے انتخابی دوڑ میں شامل ہوئے اور ان کے مخالفین نے ان پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا۔ موسوی اور کروبی نے "گرین موومنٹ" کے نام سے مشہور تحریک میں مظاہروں کی قیادت کی جس میں دارالحکومت میں لاکھوں افراد نے جمع ہو کر احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد موسوی اور کروبی کو گرفتار کرلیا گیا اور اب وہ اپنے گھروں پر نظر بند ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں