جدہ سعودی عرب کے موسیقی کے ورثے کا جشن منانے والے نئے میلے کی میزبانی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جدہ ایک ایسے میلے کی میزبانی کرنے والا ہے جو سعودی عرب کے لیے اس نوعیت کا اولین میلہ ہے اور جس میں مملکت کے موسیقی کے ورثے کا جشن منایا جائے گا۔

وزارتِ ثقافت کے زیرِ اہتمام سعودی مملکت کا یہ نغماتی ایونٹ 28 اور 30 ستمبر کے درمیان جدہ سپرڈوم میں منعقد ہوگا۔

سعودی پریس ایجنسی نے پیر کو اطلاع دی کہ یہ میلہ دھنوں کی تاریخ اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ ان کے ثقافتی روابط کو نمایاں کرے گا۔

اس تقریب میں عمر کیدر، فوزی محسن، صالح الشہری، محمد شفیق، طارق عبدالحکیم، طلال باقر، اور ڈاکٹر عبدالرب ادریس کے نغمات سمیت سعودی عرب کے چند بااثر موسیقاروں کے کام کو نشان زد کیا جائے گا۔

میلے کے شرکاء کو ملک کے نغماتی ماضی کے ذریعے ایک تعلیمی سفر پر لے جایا جائے گا۔ میلے کے مقام کے داخلی ہال کی دیواروں پر اہم موسیقاروں اور فنکاروں کی تصاویر آویزاں ہوں گی اور ایک نمائش میں وہ کلیدی کہانیاں، دھنیں اور تجربات پیش کیے جائیں گے جنہوں نے مملکت میں موسیقی کی صنعت کو تبدیل کر دیا۔

ایک سینڈ پیس ایونٹ شرکاء کو نمایاں دھنوں پر تبصرہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا اور پہلی رات سعودی گلوکار محمد عبدو کیدر کے بنائے ہوئے کئی گانے اور ادریس کی ایک دھن پیش کریں گے۔

فیسٹیول کی دوسری رات عبدالمجید عبداللہ محسون اور الشہری کے گیت گاتے ہوئے نظر آئیں گے جبکہ آخری رات عبادی الجوہر باقر کی دھنیں پیش کریں گے، مغنیہ دالیہ مبارک حکیم کی موسیقی پیش کریں گی، اور طلال سلامہ شفیق کی دھنوں پر فن کا مظاہرہ کریں گے۔

یہ فیسٹیول ویژن 2030 کے بینر تلے منعقد کیے جانے والے کئی اقدامات میں سے ایک ہے جس کا مقصد سعودی افراد، خاندانوں اور کمیونٹیز کے طرزِ زندگی اور رہائش کو بہتر بنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں