ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں، ہماری سرزمین پر امریکی فوج کی نقل وحرکت نہیں:عراقی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان یحییٰ رسول نے منگل کو اپنے ملک کی سرزمین میں کسی بھی امریکی فوجی نقل و حرکت کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ صرف ایک معمول کی تبدیلی کا عمل ہے۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کو دیئے گئے بیانات میں رسول نے کہا کہ "حال ہی میں جو فوجی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے وہ شام میں امریکی افواج کو تبدیل کرنے کا عمل ہے اور میرے خیال میں یہ ایک امریکی پہاڑی فوجی ڈویژن تھی۔ یہ امریکی فوجی نقل وحرکت شام کے لیے تھی عراق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان نے مغربی عراق کے صوبہ الانبار میں عین الاسد ایئر بیس پر امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے فوجی مشیروں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ "ان مشیروں کا مشن عراقی فوجیوں کو تربیت دینا اور انہیں بااختیار بنانا ہے۔ ہمارے پاس تربیت یافتہ امریکی فوجی ہیں جو اس اڈے پر تربیت دیتے ہیں۔"

رسول نے زور دیا کہ "امریکی افواج اور بین الاقوامی اتحاد تقریباً ہر نو ماہ یا ایک سال میں عراق اور شام میں اپنی افواج کو تبدیل کرنے کا عمل انجام دیتے ہیں۔"

عراقی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالامیر یار اللہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عراقی سکیورٹی وفد گذشتہ ہفتے کے روز عین الاسد اڈے پر پہنچا تھا تاہم ایجنسی نے فوجی اڈے کے دورے کی وجوہات اور اس کے مقاصد کا ذکر نہیں کیا۔

جمعرات کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس کے کمانڈر مائیکل کوریلا نے بغداد کا دورہ کیا اور عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی سے ملاقات کی تاکہ مشترکہ سلامتی کے خدشات اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مستحکم کرنے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

کمانڈ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ کوریلا نے جب وہ عراقی دارالحکومت میں تھے میتھیو میکفارلین سے جوئل فوائل کو آپریشن انہیرینٹ ریزولو کی مشترکہ ٹاسک فورس کمانڈ کی منتقلی کی بھی نگرانی کی۔

عراقئ فوج کے ترجمان نے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے عراقی فوج کی تیاری کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عراق اور شام کی سرحدیں محفوظ ہیں اور عراقی فوج اپنے ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے کافی ہے۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گرد گروہوں کی کسی بھی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں، خاص طور پر چونکہ شمال مشرقی شام ان سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں مختلف ممالک کی افواج کی موجودگی بھی ہے اور یہ صورتحال حقیقت میں پیچیدہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں