وزراء خفیہ ملاقات کی تفصیلات جاری کرنے سے قبل اس کی باضابطہ منظوری لیں: نیتن یاھو

لیبی وزیرخارجہ سے ملاقات کی تفصیل بتانے سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد اسرائیلی حکومت کا نیا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کل منگل کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے وزراء کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی غیرملکی عہدیدار سے خفیہ ملاقات کی تفصیلات جاری کرنے سے قبل اس کی باضابطہ طور پر منظوری لیں۔

وزیراعظم نیتن یاھو کی طرف سے یہ ہدایات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دو روز قبل اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے ایک پریس کانفرنس میں لیبی وزیر خارجہ نجلاء المنقوش سے اٹلی میں خفیہ ملاقات کا انکشاف کیا تھا۔ اس انکشاف نے دونوں ملکوں کی سیاست میں ہل چل پیدا کردی اور لیببی وزیر خارجہ نجلاء کو معطل کردیا گیا اور وہ فرار ہو کر ترکیہ پہنچ گئیں جب کہ اسرائیلی حکومت کو بھی اندرونی اور بیرونی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

لیبیا کی معطل وزیر خارجہ نجلا المنقوش
لیبیا کی معطل وزیر خارجہ نجلا المنقوش

نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی خفیہ ملاقات کی تفصیلات شائع کرنے کے لیے وزیراعظم کی ذاتی منظوری ضروری ہے۔

اسرائیلی حکام نے عندیہ دیا تھا کہ اسرائیل کے وزیر خارجہ ایلی کوہن اور ان کے لیبیائی ہم منصب کے درمیان ملاقات کا انکشاف حکومت کی سبکی کا باعث بنا ہے۔ امریکا نے بھی اسرائیل پر اس معاملے میں برہمی کا اظہار کیا۔۔ امریکی حکام نے اس انکشاف کو ایک ایسا اقدام قرار دیا ہے جس سے لیبیا کو واپس لانے کے لیے واشنگٹن کی قیادت میں دو سال کی کوششیں رائےگاں ہوسکتی ہیں، امریکا نے اسرائیل اور لیبیا کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور معاہدے تک پہنچنےکے لیے بہت محنت کی تھی۔

روم میں گذشتہ ہفتے اسرائیلی اور لیبی وزراءخارجہ کی ملاقات کے بعد لیبیا کی خاتون وزیر نجلاء المنقوش کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ترکیہ فرار ہوگئی ہیں۔ اس تنازع کے بعد انہیں حکومتی عہدے سے معطل کردیا گیا ہے۔

معطل وزیر خارجہ کے ٹھکانے کے بارے میں متضاد اطلاعات تھیں، کیونکہ ذرائع ابلاغ نے ان کے استنبول اور پھر لندن کے سفر کے بارے میں بات کی تھی، لیکن معیتیقہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی نے انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

عبدالحمید الدبیبہ کی حکومت کے ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے ’العربیہ‘ اور ’الحادث‘ کو دیئے گئے خصوصی بیانات میں صدارتی امور کے وزیر مملکت کے استعفیٰ کی اطلاع کی تردید کی۔

الدبیبہ نے گذشتہ رات اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی وزیر خارجہ کو عارضی طور پر کام سے معطل کر دیا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لیبیا کے میڈیا نے ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ الدبیبہ نے وزیرہ نجلاء المنقوش کو برطرف کر دیا ہے۔
لیبی وزیر خارجہ کی بدقسمتی کا آغاز اس وقت ہوا جب دو روز قبل اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے روم کی میزبانی میں ان سے خفیہ ملاقات کا انکشاف کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں