حوثی ملیشیا نے 2406 شہریوں کو لاپتہ کردیا، 133 خواتین اور 117 بچے شامل

حوثی ملیشیا کی جیلوں میں 32 مغویوں کو قتل کردیا، دیگر نے تشدد سے چھٹکارا پانے کے لیے خودکشی کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی نیٹ ورک فار رائٹس اینڈ فریڈمز نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے یکم جنوری 2017 سے اس سال 2023 کے وسط تک 17 گورنریوں میں 133 خواتین اور 117 بچوں سمیت 2,406 شہریوں کو زبردستی لاپتہ کر دیا ہے۔

نیٹ ورک نے جبری گمشدگی کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر رپورٹ جاری کی جس میں وضاحت کی کہ اس کی فیلڈ ٹیم نے شہریوں کے خلاف جبری گمشدگی کے تقریباً 2406 جرائم ریکارڈ کیے۔

نیٹ ورک نے رپورٹ کیا کہ جبری گمشدگی کے جرائم میں حوثی ملیشیا یمن کے مختلف طبقات اور گروہوں کو نشانہ بنایا۔ 642 مزدوروں کو لاپتہ کیا گیا۔ 189 سیاستدان، 279 فوجی، 162 معلم، 53 انسانی حقوق کے سرگرم کارکن، 71 طلبہ، 88 تاجر، 117 بچے، 118 سماجی شخصیات، 31 میڈیا سے وابستہ افاد، 39 مبلغین و خطباء، 13 ماہرین تعلیم، 133 خواتین، 382 غیر ملکی افریقی مہاجرین، 52 وکلا اور 37 ڈاکٹروں کو غائب کردیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حوثی ملیشیا کی جیلوں میں 32 افراد کو قتل کردیا۔ دیگر نے تشدد سے چھٹکارا پانے کے لیے خودکشی کر لی۔

یمنی نیٹ ورک فار رائٹس اینڈ فریڈمز کی فیلڈ ٹیم نے حوثی ملیشیا کی جیلوں میں اغوا ہونے والوں کی 79 اموات ریکارڈ کیں اور 31 افراد کی موت دل کا دورہ پڑنے سے بتائی گئی۔ تحقیقات کے مطابق حوثی ملیشیا تقریباً 641 جیلیں چلا رہی ہے جن میں 237 سرکاری جیلیں بھی ہیں۔ 128 خفیہ جیلیں ہیں جو غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں