کویت: مخلوط طرزمعاشرت والے ممالک کا سفر کرنے والوں کو قید اور جرمانے کی تجویز

کویتی خاتون وکیل کی عجیب تجویز پر سوشل میڈیا پر ایک نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کویت کی ایک خاتون وکیل نے ایسے ممالک جہاں لوگ مخلوط طور پر رہتے ہیں کا سفر کرنے والے ارکان پارلیمان اور حکومتی عہدیداروں کو جیلوں میں ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اس بیان پر عوامی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

بدھ کو کویتی وکیل ایڈووکیٹ اریج عبدالرحمٰن حمادہ نے قومی اسمبلی میں ایک تجویز پیش کی کہ اراکین اسمبلی اور وزراء کی نجی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے نیا قانون نافذ کیا جائےجس میں انہیں ایسے ممالک کے سفر سے روکا جائے جو کویتی رسم و رواج کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اسلامی قوانین کا اطلاق نہیں کرتے۔

سیاسی پیغام

حمادہ نے کہا کہ اس نے یہ تجویز ایک قانون کے لیے پیش کی تھی جو پبلک رجسٹری کو موصول ہوئی جس میں اخلاقیات کمیٹی کو مخاطب کیا گیا تھا۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کو 5 سال قید اور 20,000 دینار جرمانے کی سزا دی جائے۔

حمادہ نے وضاحت کی کہ وہ ایک ایسا قانون متعارف کروا کر سیاسی پیغام دینا چاہتی ہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں کی تجویز دینا دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت ہے۔

حمادہ کی طرف سے پیش کردہ مجوزہ قانون میں قومی اسمبلی کے سپیکر، ان کے نائب، قومی اسمبلی کے تمام اراکین، ان کے مشیروں، سیکرٹریز، ان کے کے خاندانوں، وزراء، ان کے مشیروں اور ان کے خاندان کے افراد کے ان ممالک کےسفر پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے جن میں کویت کی طرح اسلامی قانون رائج نہیں۔ جہاں مخلوط طرز زندگی ہے اور کویت جیسے لباس کے ضابطہ اخلاق کی پابندی نہیں۔

اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ جو بھی اس نظام کی خلاف ورزی کرتا ہے اسے 5 سال سے زیادہ قید اور 20 ہزار دینار جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

اعلان کردہ دستاویز میں 12 آئٹمز شامل ہیں، جن میں سب سے نمایاں ہیں: "مخلوط طرز معاشرت کی روک تھام کے قانون پر عمل درآمد کیا جئائے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں