لبنان: 6 سالہ بچی سے ماموں نے زیادتی کی، ماں نے پردہ ڈالا، سزائے موت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چھ سالہ بچی کی ہوس کا نشانہ بنائے جانے سے موت نے پورے لبنان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس دردناک واقعہ کے حوالے سے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 6 سالہ بچی لین طالب کے مقدمہ کے حوالے سے پہلی تفتیشی جج سمر ندا نصر نے فرد جرم جاری کردی۔

لین طالب کا انتقال 25 جون کو اس وقت ہوا تھا جب وہ عید الفطر گزارنے اپنی نانی کے گھر گئی تھی اور وہاں ماموں کی جانب سے اسے متعدد مرتبہ ہوس کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی ماں نے اس پر پردہ ڈالا۔

مقامی میڈیا کے مطابق جب اس کے ماموں پر عصمت دری کا الزام لگایا گیا تو ماں، نانا اور نانی نے اس معاملے کو چھپا دیا۔ عدلیہ کے مطابق اب اس کے ماموں کے اس عمل پر تعزیرات کوڈ کی دفعات 503 اور 504 کے جرائم پر لاگو کرنے پر غور کیا گیا۔

جج نے اس قانون کے آرٹیکل 549 کے مطابق لن کی موت کو پہلے سے سوچے گئے قتل کا جرم بھی قرار دیا اور درخواست کی کہ اس جرم کے لیے ماموں، ماں ، نانا اور نانی پر مقدمہ چلایا جائے۔ اس جرم کی سزا سزائے موت ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب جج نے کچھ دن پہلے کیس میں اپنی تحقیقات مکمل کیں اور فرد جرم کا فیصلہ جاری کرنے کی تیاری کے لیے معاملہ کو پبلک پراسیکیوشن آف اپیل ان دی نارتھ کو ریفر کردیا۔ جج نے کہا میں نے فرانزک ڈاکٹروں کی گواہی سنی جنہوں نے متاثرہ بچی کے حوالے سے اپنی رپورٹس پیش کیں۔

واضح رہے اس ننھی بچی کے سانحہ نے لبنان میں غم و غصے کی ایک وسیع لہر کو پھیلا دیا تھا۔ لوگوں نے بڑے پیمانے پر ماں کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ ماں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے نا کہ اپنے بچوں کے خلاف خوفناک جرائم کی پردہ پوشی کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں