خانہ جنگی کی ایک دہائی کے بعد دمشق نے حفاظتی رکاوٹیں ہٹانا شروع کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خانہ جنگی نے عام شہریوں کی زندگی کو کئی حوالوں سے مشکل بنایا ہے۔

کوئی شہری اپنے گھر سے شناختی دستاویزات کے ساتھ ہی نکل سکتا ہے ورنہ اسے کسی بھی جگہ دھر لیا جائے گا۔

شناختی دستاویزات کے علاوہ نوجوانوں کے لیے گھر سے باہرسفر کے دوران ’انفارمیشن بک‘ بھی ساتھ رکھنا لازمی ہے جس میں ان کی فوج میں بھرتی کی تاریخ اور عبور کردہ چوکیوں کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ اگر یہ ڈائری کھو جائے تو پھر خیریت سے گھر واپسی خطرات سے بھری ہوتی ہے اور کسی بھی جگہ ان کے ساتھ کوئی سکیورٹی واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

ہنگامی ناکے اور مستقل چوکیاں

کئی ایسی چوکیاں ہیں جو مرکزی سڑکوں پر قدم قدم پرہیں یا جنگ کے سالوں میں شہروں میں بنائی گئی ہیں۔ شاید شامی باشندے "الفیش" کے لفظ سے بہ خوبی آگاہ ہیں۔ یہ لفظ خوف کی علامت ہے۔ اس کا مطالب ہے کہ اسے ریزرو سروس کے لیے بلایا گیا ہے یا بلایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جس علاقے میں زیادہ چوکیاں ہوں وہاں شہری سفر سے گریز کرتے ہیں اور گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

کئی سال پیشتر شامی سکیورٹی فورسز نے شہروں کے اندر سے چیک پوائنٹس کو ہٹا کر خود کو موبائل یا غیر مستقل چوکیوں تک محدود کر دیا تھا۔ انہیں "فلائنگ چیک پوائنٹس" کہا جاتا تھا۔ ان کے لیے پولیس اور سکیورٹی اہلکار جگہیں او اوقات بدل کر سڑکوں پر ٹریفک کی چیکنگ کرتے۔ ان کا مقصد تحقیقات کرنا ہوتا۔ جبکہ عوامی سڑکوں پر چیک پوائنٹس، خاص طور پر بین الاقوامی سڑکوں پر بدستور موجود رہتی ہیں۔ اگرچہ ان کی تعداد میں کمی کی گئی ہے مگر یہ آج بھی کہیں کہیں دکھائی دیتی ہیں۔

البتہ اب دمشق اور دوسرے شہروں میں ہنگامی ناکے اور مستقل چوکیوں کا بوجھ کچھ کم کیا گیا ہے جس کا مقصد شہریوں کی قدم قدم پر چھان بین اور ان کا وقت ضائع ہونے سےبچانا بتایا جاتا ہے۔

شامی منظرنامے پر نظررکھنے والےمبصرین نے چوکیاں ہٹانے کے فیصلے کو شہریوں پر بوجھ کم کرنا قرار دیتے ہیں، خاص طور پر چونکہ شہری ایک عرصے سے مشکلات برداشت کرتے آر ہے ہیں اور اہم سڑکوں پران کا وقت ضائع ہوتا ہے۔

سکیورٹی چیک پوسٹوں کو ہٹانے کا عمل بھی ہر جگہ یکساں نہیں۔ انتہائی حساس شہروں میں اب بھی چیک پوسٹیں موجود ہیں۔ اگر انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے تو بھی ان کی خاطر خواہ تعداد موجود ہے۔ البتہ چیک پوسٹوں کو مضافات میں منتقل کردیا گیا ہے۔

دریں اثنا مبصرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ چیک پوسٹوں میں کمی سے معیشت اور تجارتی تبادلے میں بہتری آئے گی۔ شامی گورنریوں اور شہروں کے درمیان سامان اور مصنوعات کی آمد و رفت میں آسانی ہوگی۔ قیمتوں میں 50 فیصد کمی لیکن انہوں نے پلیٹ فارم کے حوالے سے ریزولوشن 1130 کے خاتمے کے ساتھ رکاوٹوں کو ہٹانے اور درآمد شدہ سامان کو کلیئر کرنے کا طریقہ کار اور انوائس جمع کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں