عراق اور ایران کے درمیان ریل لنک بصرہ-چلمجا منصوبہ کے تعمیراتی کام کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے ہفتے کے روز ہمسایہ ملک ایران سے ملانے والی پہلی ریلوے لائن کے تعمیراتی کام کا افتتاح کردیا ہے۔

وزارت نقل و حمل کے ایک عہدہ دار کے مطابق ’’بصرہ-چلمجا ریلوے لائن منصوبہ‘‘عراق کے جنوبی شہر بصرہ کو چلمجا سرحدی کراسنگ کے ذریعے ایران کے وسیع ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرے گا۔

ایک اندازے کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل میں 18 سے 24 ماہ لگیں گے۔وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’اس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران اور وسط ایشیائی ممالک کے مسافروں کو شیعہ مقدس شہروں تک لے جانے کے قابل بنانا ہے‘‘۔

انھوں نے نشان دہی کی کہ یہ منصوبہ 2021 میں معاہدے تک پہنچنے سے پہلے کئی سال سے زیر بحث تھا۔تقریب میں السودانی نے ایران کے نائب صدر اوّل محمد مخبرکے ساتھ منصوبے کا علامتی سنگ بنیاد رکھا۔

محمد شیاع السودانی نے تہران کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ٹرین لائن کا راستہ صاف کرنے کے لیے سرحد پر کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی اور شط العرب آبی گذرگاہ پر ریلوے پل تعمیر کیا، جہاں دریائے دجلہ اور فرات خلیج میں بہنے سے پہلے یکجا ہوتے ہیں۔

ایران کے نائب صدر محمد مخبر نے اس تزویراتی منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’اگلے دو سال میں‘‘ مکمل ہو جائے گا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کا نصف حصہ ایران کی سرحدی علاقے میں ہوگا۔

اس وقت جنگ سے تباہ حال اور بڑے پیمانے پر کرپشن سے آلودہ مگر تیل کی دولت سے مالا مال عراق کا انفراسٹرکچر انتہائی خستہ حال ہے۔اس میں فرسودہ ٹوٹی پھوٹی شاہراہیں اور ریلوے ٹریک بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم السودانی کی حکومت ملک میں انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ معاہدے طے کررہی ہے۔مئی میں بغداد نے ترکیہ کے ساتھ عراق کی شمالی سرحد سے جنوب میں خلیج تک 1،200 کلومیٹر (745 میل) طویل سڑک اور ریلوے کے17 ارب ڈالر مالیت کے ایک منصوبے کی نقاب کشائی کی تھی۔ اس منصوبے کو’’ترقی کا راستہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں