عراق:کرکوک میں جھڑپوں میں چار مظاہرین کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے شمالی شہر کرکوک میں نسلی بنیاد پرجھڑپوں میں چار مظاہرین کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا گیا ہے۔

پولیس اور سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال شہر کرکوک میں مزید تشدد کو روکنے کے لیے فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

کرکوک میں گذشتہ کئی روز سے حالات کشیدہ ہیں۔ شہر میں آباد مختلف نسلی گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں ہفتے کے روز چار مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس اور طبّی ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں مہلوک کرد تھے۔

کرکوک پولیس کے ترجمان عامر شوانی نے صحافیوں کو بتایا کہ اتوار کے روز شہر میں نافذ کرفیو اٹھا لیا گیا ہے اور گاڑیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔البتہ سکیورٹی فورسز نے ’تشدد کو روکنے اور شہریوں کی حفاظت‘ کے لیے سڑکوں پر اضافی فوجی تعینات کیے ہیں۔

کرکوک کے چار مکینوں کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹروں نے بھی اتوار کے روز شہر کے اوپر پرواز کی۔عامر شوانی نے گذشتہ روز مسلح جھڑپوں میں چار مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مختلف نسلی گروہوں کے درمیان اس نئے تنازع کی بنیاد کرکوک میں واقع ایک عمارت ہے۔یہ کبھی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (کے ڈی پی) کا ہیڈ کوارٹر ہوا کرتی تھی لیکن عراقی فوج 2017 سے اسے ایک اڈے کے طور پراستعمال کر رہی ہے۔

شہر کے مکینوں نے بتایا کہ پولیس نے جھڑپوں میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے لیکن پولیس نے کسی بھی گرفتاری پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

کرکوک میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری کشیدگی کے بعد حکام نے ہفتے کے روز کرفیو نافذ کر دیا تھا اور پولیس کو شہر میں بفرکے طور پر متحارب فریقوں کے مظاہروں کو روکنے کے لیے تعینات کیا تھا۔ایک طرف کرد باشندوں نے احتجاجی ریلی نکالی تھی جبکہ دوسری طرف ترکمن اور عرب باشندے احتجاج کررہے تھے۔اس دوران میں فائرنگ سے لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

کثیرلسانی اورکثیر نسلی شہربغداد میں وفاقی حکومت اور شمال میں خود مختار کردستان کے علاقائی حکام کے درمیان متنازع ہے۔عراقی حکومت اس کا کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ خود مختار کردستان اور عراق کی شیعہ اکثریتی مرکزی حکومت کے عمل داری والے علاقوں کے درمیان واقع تیل کی دولت سے مالا مال شمالی صوبہ کرکوک داعش کے بعد ملک کے بدترین تشدد کا مرکز رہا ہے۔

عرب باشندوں اور دیگر اقلیتی گروہوں کا کہنا ہے کہ انھیں کرد حکمرانی کے تحت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ کے ڈی پی کی شہر میں واپسی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں جبکہ خودمختار کردستان کے حکام اس پر اپنی عمل داری چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں