'مجرم کی سزائے موت سے کم پر بیٹی کی روح راضی نہیں ہوگی': ریپ کا شکار بچی کے اہل خانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان میں ایک کم سن بچی کے ریپ کے بعد بے دردی سے قتل کے واقعے کی افشا ہونے والی تحقیقات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد بچی کے والدین نے خاموشی توڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا اور آخری مطالبہ انصاف کی فراہمی ہے اور ہم ملزم کی سزائے موت سے کم پر تیار نہیں۔

خیال رہے کہ کم عمر بچی لین طالب کے ریپ اور قتل کی گھناؤنی واردات گذشتہ جون میں سامنے آئی تھی جس کے بعد اس معاملے کی عدالتی سطح پر تحقیقات ہو رہی تھیں۔

مقدمے کے پہلے تفتیشی جج کے مفروضہ فیصلے کے بعد ایسے مظالم کا انکشاف ہوا کہ کوئی بھی دماغ برداشت نہ کرسکا۔ دوسری طرف لڑکی کے والد کے اہل خانہ نے کہا کہ ہے وہ سزائے موت سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے۔

اس کیس میں ایک درندہ صفت شخص نے اپنی چھ سالہ بھانجی کا ریپ کرنے کے بعد اسے قتل کردیا تھا۔

’’ہم سزائے موت سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے‘‘

اپنے آبائی علاقے سفینہ القیطع میں لوگوں کے ساتھ منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اس نے لبنانی عدلیہ، میڈیا، کارکنوں، سکیورٹی سروسز اور ہر اس شخص کا جس نے اس کیس میں تعاون کیا کا شکریہ ادا کیا۔

بچی کے والدین نے کہا کہ جن ججوں نے تحقیقات میں کام کیا ان کا نام تاریخ میں روشن ہوگا۔ خاص طور پر شمال میں فرسٹ مجسٹریٹ سمرندا نصار جنہوں نے والدہ ود بو خلیل کے خاندان کو مجرم قرار دیا۔

انہوں نے سب پر زور دیا کہ وہ اس کیس کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے اس کی پیروی جاری رکھیں اور ماں کے خاندان کے مجرموں کو سزا دلوائیں۔

اہل خانہ کا یہ بیان مقدمے کے پہلے تفتیشی جج کے فرد جرم کے فیصلے کے جاری ہونے کے بعد آیا، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ چھوٹی بچی کےماموں نادر ابو خلیل نے اپنی اہلیہ کے بچے کی پیدائش کے موقعے پر خاندان کی مصروفیت سے فائدہ اٹھا کر اپنی چھ سالہ بھانچی کو ریپ کیا جس کے بعد اسے قتل کردیا۔

بچی کے ماموں کے فعل کو تعزیرات کی دفعات 503 اور 504 کے جرائم میں شامل کرتے ہوئے ملزم پر سزائے موت کی فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شمال میں پہلے تفتیشی جج سمرندا نصار نے کل اس پر فرد جرم عائد کی اور مطالبہ کیا کہ ماموں، اس کی والدہ، نانا اس کی نانی کے خلاف اس جرم کا مقدمہ چلایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں