نیتن یاہو نے اپنے وزیرخارجہ پر لیبی ہم منصب سے ملاقات کے افشاء کا ملبہ ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لیبی وزیر خارجہ کے ساتھ خفیہ ملاقات کے افشاء کا ملبہ اپنے اعلیٰ سفارت کارایلی کوہن پر ڈال دیا ہے۔اس ملاقات پر طرابلس میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وزیر خارجہ ایلی کوہن نے 26 اگست کو اٹلی میں لیبی ہم منصب نجلاء منقوش سے ملاقات کی تھی۔ اس نے یہ بیان اس ملاقات کے بارے میں اسرائیلی میڈیا کی ایک رپورٹ کے بعد جاری کیا تھا۔

دونوں وزراء خارجہ کے درمیان ملاقات کے انکشاف کے بعد لیبیا میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔لیبیا اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اوروہاں فلسطینیوں کے حق میں مضبوط جذبات پائے جاتے ہیں۔وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے اس ملاقات کے بعد منقوش کوعہدے سے ہٹا دیا ہے۔

نیتن یاہو نے قبرص کے ٹی وی چینل اے این ٹی ون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملاقات کا افشاء مددگار نہیں ہواہے، اب یہ بات واضح ہوچکی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’میں نے اپنے تمام حکومتی وزراء کو ہدایت جاری کی ہے کہ اس طرح کی ملاقاتوں اور اجلاسوں سے پہلے میرے دفتر کو پیشگی مطلع کرنا ہوگا، اور یقینی طور پر ان کی اشاعت کی میرے دفتر سے پیشگی منظوری لینا ہوگی‘‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عبدالحمید الدبیبہ اور لیبیا کے دیگر رہ نماؤں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اس امید میں استوار کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکا لیبیا کے داخلی سیاسی اختلافات میں ان کی حمایت کرے گا۔

اسرائیل اپنے طور پر ممکنہ عرب اور مسلم شراکت داروں کے ساتھ دانش مندانہ مذاکرات کا خواہاں ہے تاکہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ مکمل تعلقات استوار کرسکیں۔ اے این ٹی ون کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کوہن اورمنقوش کے درمیان ہونے والی ملاقات کو’اصول سے مستثنا‘ قرار دیا ہے۔

28 اگست کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ایلی کوہن نے اپنی وزارت کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے خارجہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ خفیہ اورظاہری ذرائع سے کام کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں