’کرونا‘ کی کوکھ سے جنم لینے والے8 اصول جو اب سعودی معاشرے کا جزو لازم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جس دنیا کو ہم کرونا سے پہلے جانتے تھے وہ بڑی حد تک وبائی مرض کے بعد مختلف صورت اختیار کرچکی ہے۔ کرونا ایک وبا تھی مگر اس نے زندگی کے اصول تبدیل کردیے۔ سیاست، معاشیات اور صحت کےماہرین کو اکثر یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’کرونا‘ نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ کرونا سے پہلے اور بعد کی دنیا اور معمولات زندگی میں کافی فرق ہے۔

سنہ2020ء میں شروع ہونے والی "کوویڈ 19" احتیاطی تدابیر کی سختی تو ختم ہوگئی ہے اور زندگی اپنے معمول پر لوٹ آئی ہے مگر عالمی وبا نے زندگی اور کام کے انداز میں بنیادی تبدیلیاں بھی متعارف کرائی ہیں۔اب ان نئے اصول وضوابط کو کرونا سے پہلے والی پوزیشن پر نہیں لایا جا سکتا کیونکہ یہ سوسائٹی کے روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔

اس رپورٹ میں ہم نے سعودی معاشرے میں رونما ہونے والی کچھ تبدیلیوں اور ایک نئی دنیا کی خصوصیات کا انتخاب کیا۔ ان تبدیلیوں میں پہلا ماسک کا استعمال ہے جو نقاب کا متبادل بن گیا، خاص مواقع پر مصافحہ کرنے سے گریز، شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی کم ہوچکی، جنازے کے اجتماعات کا انداز تبدیل ہوا، ریسٹورنٹ سروس اور طریقہ تعلیم میں تبدیلی آئی۔

ماسک اور نقاب

اکتوبر 2021 میں سعودی عرب نے ابتدائی طور پر صحت کے اقدامات کو آسان بنانے اور معمول کی زندگی کو بحال کرنے کے لیے کھلی جگہوں سے ماسک کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، لیکن ایسے لگتا ہے کہ سعودی خواتین ماسک کو بہ طور نقاب اختیار کررہی ہیں۔ ماسک اب اس معاشرے میں حیران کن نہیں رہا۔ یہ چہرے کو ڈھانپنے کا ایک نیا انداز ہے اور ماسک نقاب کا متبادل بن گیا۔

شادی بیاہ کی تقریبات

ماضی میں سعودی خاندان کئی وجوہات کی بنا پر مہنگے اور بڑے پیمانے پر سماجی تقریبات منعقد کرتے تھے، جن میں خاندان اور دوستوں کو دکھاوا بھی شامل تھا۔ شادی کی تقریبات پر دو لاکھ سعودی ریال تک کی رقم صرف ہوتی تھی جو پاکستانی روپے میں ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ ہوتی تھی۔ مہمانوں کی تعداد کم از کم 200 سے 300 افراد تک تھی، لیکن ان مواقع اور ان کے سماجی اسراف میں وبائی امراض کے بعد نمایاں کمی واقع ہوئی۔ یہ رواج معاشرے کے اکثریتی ارکان میں اب جاری نہیں رہے۔ ایک چھوٹے سے خاندانی فریم ورک کے اندر شادی کو ترجیح دینا زیاہ آسان ہوگیا ہے۔

دعوتی کارڈز

اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشرتی تبدیلی ناگزیر ہے لیکن کرونا نے سعودی عرب میں تبدیلی کے پہیے کو تیز کر دیا، سماجی محقق منصور العساف کےمطابق اس نے بنیادی اور رسمی تبدیلیاں کیں، حتیٰ کہ تقریبات کے دعوتی کارڈ بھی شامل ہیں۔ اب فون ایپلی کیشنز کے ذریعے الیکٹرانک طور پردعوت بھیجی جاتی ہے۔

العساف نے زور دے کر کہا کہ معاشرہ اس کو ایک عیب اور مہمانوں کے احترام کی کمی سمجھتا ہے۔ آپ کے لیے کاغذی دعوت نامہ وصول کرنا نایاب ہو گیا ہے۔اب لوگ آن لائن دعوت نامے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

مہمان نوازی کا رواج

سعود عرب میں مہمان نوازی کا کلچر عام ہے مگرمہمان نوازی کے ساتھ ایک پرانی رسم جڑی ہوئی تھی۔ رسم یہ تھی کہ میزبان اپنے مہمان کے لیے کھانا کھاتے ہوئے پکے گوشت کو ہاتھ سے چھوٹا چھوٹا کرکےاس کے سامنے پیش کرتا، اگرچہ اسے سخاوت اور مہمان کی خدمت کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر بہت سے مہمان اس کو پسند نہیں کرتے۔ کرونا کی برکت سے یہ رسم بھی دم توڑ رہی ہے اوراب ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی میزبان اپنے مہمان کو گوشت کے نوالے بنا کر پیش کرے۔
تعزیتی مجالس
کرونا کے بعد ہونے والی تبدیلیوں میں صرف شادی بیاہ کی تبدیلیاں ہی نہیں بلکہ تعزیتی تقریبات اور مجالس کا انداز بھی بدل گیا۔ کرونا نے جنازوں کے اجتماعات میں بھی اپنا نشان چھوڑا جس میں اسراف کے کچھ پہلو تھے۔
العساف کا کہنا ہے کہ بہت سی پریشان کن اورتھکا دینے والی رسوم وراج جو تعزیتی مجالس سے جڑی ہوئی تھی جن میں اسراف پر مبنی ضیافتیں بھی ہوتی تھیں اب ختم ہو رہی ہیں۔

سماجی محقق نے نشاندہی کی کہ "معاشرے کے بہت سے افراد یہ نہیں چاہتے ہیں لیکن وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ لوگ اس کے گھر آتے ہیں اور اسے عام عرب مہمان نوازی نہ ملنا مشکل ہے۔کرونا نے حقیقت میں اپنا کردار ادا کیااور جنازے اور تعزیتی مجالس کے ساتھ جڑی فرسودہ رسموں کو ختم کردیا۔

مصافحہ

کرونا نے معاشروں کو مصافحہ ترک کرنے پر بھی مجبور کیا جو کہ سعودی معاشرے کے ارکان میں ایک مروجہ خصوصیت تھی۔ زندگی معمول پر آنے کے باوجود افراد اب بھی مصافحہ کو ترجیح نہیں دیتے۔ حماد باسم نے "X" نیٹ ورک پر ایک پوسٹ میں بتایا کچھ سماجی رسومات اور روایات کی عدم موجودگی جیسا کہ "ابھی بھی یہ واضح ہے، خاص طور پر کرونا کے پھیلاؤ کے بعد ہاتھ ملانےسے گریز اب روز مرہ زندگی کاحص بن چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں