عراق کا عالمی بینک کے اشتراک سے بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بحالی کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل اتوار کوعراقی حکام نے بغداد قائم بین الاقوامی ہوائی اڈے کی خستہ حال سہولیات کو ترقی دینے کے مقصد سے اس کی بحالی کے لیے عالمی بینک گروپ سے منسلک بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔

اس معاہدے کی یاداشت پر عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے دستخط کیے ہیں۔ "انٹرنیشنل انسٹی ٹیوشن جو ایک مربوط سرمایہ کاری کا پورٹ فولیو فراہم کرتا ہے وہ ہوائی اڈے کی توسیع، مالی امداد، آپریشن اور دیکھ بھال کی نگرانی کرے گا"۔

بیان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد "ہوائی اڈے کی کارکردگی، اس کی سہولیات اور حفاظتی عوامل کو مضبوط کرنا اور اس کی خدمات کو بہتر بنانا ہے تاکہ بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی دنیا کے عالمی معیاری ہوائی اڈوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکے۔

بغداد ایئرپورٹ چالیس سال قبل تیار کیا گیا تھا جس کے بعد ہوائی اڈے کی غیرمعمولی اہمیت کے باوجود اس کی ترقی اور بحالی کے لیے کوئی بڑا پروجیکٹ جاری نہیں کیا گیا۔

کویت پر صدام حسین کی حکومت کے حملے کے بعد عراق پر مسلط کردہ ناکہ بندی کے نتیجے میں بغداد ہوائی اڈے نے 1990 کی دہائی کے دوران کام کرنا بند کر دیا تھا۔

اس عرصے کے دوران عراقیوں نے اردن کے زمینی راستے پر انحصار کیا جو باقی دنیا کے لیے ہوائی سفر کے لیے اہم پڑاؤ تھا۔

ہوائی اڈہ تین اسٹیشنوں پر مشتمل ہے جو مسافروں کی آمد کی صورت میں خاص طور پر شیعہ مذہبی تقریبات کے دوران کھچا کھچ بھر جاتے ہیں۔

بین الاقوامی اتحادی افواج اب بھی کچھ ہوائی اڈوں کی تنصیبات میں موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً حملوں کا نشانہ بنتی ہیں۔

جنوری 2022 ءمیں دو سول ہوائی جہازوں کو جو ہوائی اڈے کی پارکنگ لاٹ میں کو راکٹ حملوں سے نقصان پہنچا تھا۔

گذشتہ اپریل میں عراقی حکومت نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 500,000 ڈالر مختص کیے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کے ساتھ معاہدہ کیا جا سکے۔ عالمی بنک ترقی پذیر ممالک میں نجی شعبے پر توجہ مرکوز کرنے والا اہم ترقیاتی ادارہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں