اسرائیل نے محصورغزہ کی برآمدات معطل کردیں، انسانی المیہ رونما ہونے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی تاجروں نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی سے برآمدات معطل کرنے کے فیصلے سے محصور فلسطینی علاقے میں ’’انسانی المیہ‘‘ رونما ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ نے دھماکا خیز مواد اسمگل کرنے کی مبیّنہ کوشش کے بعد حکومت کی منظوری سے غزہ سے اسرائیل کو تجارتی سامان کی ترسیل روکنے کا حکم دیا ہے۔

غزہ چیمبر آف کامرس کے صدر عاید ابو رمضان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل کا یہ فیصلہ ساحلی علاقے میں اقتصادی ناکا بندی کی پالیسی میں ایک نیا اضافہ ہے‘‘۔

غزہ کی پٹی 2007 میں حماس کے برسراقتدارآنے کے بعد سے اسرائیل کی سخت ناکا بندی کا شکار ہے۔یہاں قریباً 23 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کھلی جیل میں قید ہیں۔ ان میں کی اکثریت غُربت اور بے روزگاری کا شکار ہے۔

عاید ابو رمضان نے خبردار کیا ہے کہ "غیر منصفانہ" اقدام سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ انھوں نے ’’اجتماعی سزاؤں‘‘ کی مذمت کی جو "حقیقی انسانی تباہی" کا سبب بن سکتی ہیں۔

غزہ کی وزارت برائے اقتصادی امور کے ترجمان اسامہ نوفل کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے کو غزہ کی برآمدات کی مالیت قریباً 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سالانہ ہے۔ان برآمدات میں زیادہ تر پھل اور سبزیاں، مچھلی، کپڑے اور فرنیچر شامل ہیں۔

فلسطینی فیڈریشن آف انڈسٹریز کے ترجمان وعددہ بسیسو نے کہا کہ اسرائیلی فیصلے سے سیکڑوں فیکٹریاں بند ہو سکتی ہیں اور ہزاروں افراد کو نوکریوں سے فارغ خطی مل سکتی ہے۔

اسرائیل نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان كرم أبو سالم کراسنگ پر تین ٹرکوں پر لدے کپڑوں کی ترسیل میں اعلیٰ معیار کے دھماکا خیز مواد کا سراغ لگایا ہے۔یہ کئی کلوگرام وزنی دھماکا خیز مواد کپڑے کے تھانوں میں چھپایا گیا تھا۔

اس کے جواب میں آرمی چیف آف اسٹاف ہرتسی ہليفی نے وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کی منظوری سے غزہ سے اسرائیل کو تجارتی ترسیل روکنے کا حکم دیا جس سے کراسنگ پر سکیورٹی ایڈجسٹمنٹ کرنے کی اجازت مل گئی۔

اسرائیلی فوج اور وزارتِ دفاع نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’’آیندہ صورت حال کے جائزے کے مطابق ترسیل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی‘‘۔غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے درمیان سامان کے داخلے کا واحد راستہ كرم أبو سالم کراسنگ ہی ہے۔

ادھرمقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازع میں رواں سال اب تک 226 فلسطینی مارے جاچکے ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کی زمینی، فضائی اور سمندری ناکا بندی حماس کے راکٹ اور دیگر حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے۔واضح رہے کہ امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ، اسرائیل اور یورپی یونین حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں