لبنان میں تابوت پر ٹیکس سے عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"موت کے اوپر ایک اور قبر ہے۔" یہ کہاوت لبنانیوں کے حالات پر صادق آتی ہے کیونکہ 2019 سے جاری اقتصادی بحران کے نتیجے میں لبنانیوں کے ایک بڑے طبقے کو غربت اور بدحالی سے دوچار کر رکھا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ عوام کی معاشی مشکلات کا مداوا کرنے کے بجائے حکومت کی طرف سے میتوں کے تابوتوں پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے۔

لبنانی حکومت کے سال 2024 کے بجٹ کے مسودے کے بارے میں انفارمیشن انٹرنیشنل نامی ایک ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نئے بجٹ میں بہت سے نئے ٹیکس شامل ہیں۔ ان میں سے شاید سب سے عجیب وہ ٹیکس جسے "ماحولیاتی تحفظ کی فیس کا نام دیا گیا ہے، یہ فیس تمام درآمدی سامان پر لاگو کی جائے گی۔ ان اشیاء میں بیرون ملک سے لائے جانے والے انسانی لاشوں کے تابوت بھی شامل ہیں۔ یہ ٹیکس اس صورت میں بھی ادا کرنا پڑے گا جب کسی تابوت میں بیرون ملک سے لاش لائی جائی گی۔

تابوتوں اور لاشوں پر ٹیکس

اس خبر نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا، سوشل میڈیا صارفین نے اس غنڈہ ٹیکس کو مرنے والوں کو "اذیت دینے" کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے بیانات میں انفارمیشن انٹرنیشنل کے محقق صادق علویہ جنہوں نے بجٹ کا جائزہ لیا، نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ حکومت نے بیرون ملک سے آنے والی لاشوں اور ان کے تابوتوں پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "حکومت نے تابوتوں پر ایک نیا ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا جو بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی اشیا پر عائد کسٹم ڈیوٹی کے اندر آتے ہے۔ ان سامان میں لکڑی کے تابوت بھی شامل ہیں۔"

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ"معاشی بحران کے نتیجے میں لبنان میں تدفین کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ لہذا اگر لاش ملک سے باہر سے آئے تو کیا ہوگا؟۔ اس قسم کا ٹیکس لگانا شرمناک ہے۔ باہر سے آنے والی لاشیں ایسے شہریوں کی ہوتی ہیں جنہوں نے برسوں پردیس میں رہ کر ملک کی خدمت کی ہوتی ہے اور زرمبادلہ بھیجا ہوتا ہے"۔

حکومت کا موقف

دوسری جانب نگراں حکومت میں وزیر ماحولیات ناصر یاسین اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بیرون ملک سے لائے جانے والے تابوتوں پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ نہیں کیا، البتہ اس حوالے سے بجٹ دستاویزات میں الفاظ غلطی سے شامل ہو گئے تھے۔

انھوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ "بیرون ملک سے آنے والی لاشوں پر ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ غلطی سے پیش کیا گیا۔ کتاب نے اس حوالے سے جو الفاظ لکھے ان کا غلط مفہوم لیا گیا۔ ٹیکس بیرون ملک سے لائے جانے والے لکڑی کے ڈبے پر لگایا گیا جس میں تابوت کا ڈبہ شامل ہے۔ ان کہنا تھا کہ تابوت یا لکڑی کے بکسوں پر ٹیکس 0.2 فیصد سے زیادہ نہیں ہیں۔"

اس کے علاوہ انہوں نے وضاحت کی "وہ اس ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی درخواست کریں گے حالانکہ اس حوالے سے جو فیس مقرر کی گئی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2024 کے بجٹ میں ٹیکسوں سے متاثر ہونے والے 400,000 اشیا میں سے ہنگامہ صرف لکڑی کے ڈبے (تابوت) سے متعلق فیس پر ہو ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں