فلسطین اسرائیل تنازع

موساد کے سابق سربراہ کا اسرائیل پرمغربی کنارے میں نسل پرستانہ نظام نافذ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک سابق سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل (مقبوضہ) مغربی کنارے میں نسلی امتیاز کا نظام نافذ کررہا ہے۔

تامیر پاردو ان سابق سینیرعہدہ داروں میں تازہ اضافہ ہیں جنھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کا سلوک نسلی امتیاز کے مترادف ہے۔یہ جنوبی افریقامیں نسلی بنیاد پر علاحدگی کے نظام کا حوالہ ہے جو 1994 میں ختم ہوا تھا۔

اسرائیل اور بیرون ملک انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں اور فلسطینیوں نے مغربی کنارے پرصہیونی فوج کے 56 سالہ قبضے کو نسلی امتیاز کے نظام میں تبدیل کرنے کا الزام عاید کیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینیوں کو دوسرے درجے کا درجہ دیتا ہے اور اس کا مقصد دریائے اردن سے بحیرہ روم تک یہودی بالادستی برقرار رکھنا ہے۔

مٹھی بھر سابق اسرائیلی عہدے داروں، سفارت کاروں اور سکیورٹی اہلکاروں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے نسل پرست ریاست بننے کا خطرہ ہے، لیکن پاردو کی زبان اس سے بھی زیادہ دوٹوک تھی۔

تامیر پاردو نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا:’’یہاں ایک نسلی ریاست ہے۔ایک ایسے علاقے میں جہاں دو لوگوں کو دو قانونی نظاموں کے تحت سزا دی جاتی ہے، وہ ایک نسل پرست ریاست ہے‘‘۔

وہ 2011ء سے 2016 تک اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ رہے تھے لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ موساد کی سربراہی کے دوران میں وہ اسی عقیدے کے حامل تھے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ملک کے سب سے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ فلسطین ہے جو ایران کے جوہری پروگرام سے بھی بالاتر ہے جسے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

پاردو نے کہا کہ موساد کے سربراہ کی حیثیت سے انھوں نے نیتن یاہو کو بار بار خبردار کیا تھا کہ انھیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کی سرحدیں کیا ہیں، یا پھریہودیوں کے لیے ایک ریاست کی تباہی کا خطرہ مول لینا ہوگا۔

گذشتہ ایک سال کے دوران میں پاردو نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی جانب سے عدالتی نظام کو از سرنو تشکیل دینے کی کوششوں کے سخت ناقد بن گئے ہیں اور انھوں نے اپنے سابقہ باس کو ان اقدامات پر تنقید کا نشانہ بنایا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے اسرائیل ایک آمریت بن جائے گا۔

اسرائیلی فوجی مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی کو گرفتار کرکے لے جارہے ہیں۔
اسرائیلی فوجی مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی کو گرفتار کرکے لے جارہے ہیں۔

اسرائیل کے فوجی قبضے کے بارے میں ان کا واضح جائزہ عدالتی اصلاحات کے خلاف نچلی سطح پر احتجاجی تحریک کے رہ نماؤں کے موقف سے شاذ ہی ملتا ہے، جنھوں نے اس خدشے کی وجہ سے قبضے کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا ہے کہ اس سے مزید قوم پرست حامی خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔

پاردو کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت مغربی کنارے کو ضم کرنے کی حمایت کرنے والی انتہائی قوم پرست جماعتوں پر مشتمل ہے اور وہ اس علاقے پر اسرائیل کی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ کچھ وزراء نے مغربی کنارے میں رہنے والے آباد کاروں کی تعداد کو دُگنا کرنے کا وعدہ کیا ہے، جو اس وقت پانچ لاکھ ہے۔

نسلی امتیاز جنوبی افریقا میں سفید فاموں کی بالادستی اور نسلی امتیاز پر مبنی ایک نظام تھا 1948 سے 1994 تک مروج تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام سے متعلق روم معاہدے جیسے بین الاقوامی کنونشنوں پر اسرائیل کے بارے میں اپنے نتائج اخذ کیے ہیں۔ اس میں نسلی امتیاز کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ایک نسلی گروہ کی طرف سے کسی دوسرے نسلی گروہ پر منظم جبر اور غلبے کی ایک ادارہ جاتی حکومت‘‘۔

پاردو نے کہا کہ اسرائیلی شہری غزہ کی ناکا بندی کے علاوہ جہاں چاہیں گاڑی میں سوار ہو سکتے ہیں اور گاڑی چلا سکتے ہیں لیکن فلسطینی ہر جگہ گاڑی نہیں چلا سکتے۔انھوں نے واضح کیا کہ مغربی کنارے کے نظام کے بارے میں ان کے خیالات ’’انتہا پسندانہ‘‘نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں‘‘۔

اسرائیلیوں کو مغربی کنارے میں واقع فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے، لیکن وہ اسرائیل اور مغربی کنارے کے 60 فی صد حصے میں گاڑی چلا سکتے ہیں جس پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔ فلسطینیوں کو ملک میں داخل ہونے کے لیے اسرائیل سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور اکثر مغربی کنارے کے اندر جانے کے لیے فوجی چوکیوں سے گذرنا پڑتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کے اندر اور الحاق شدہ مقبوضہ مغربی بیت المقدس (مشرقی یروشلم) میں امتیازی پالیسیوں، اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کی مکمل ناکا بندی اور مغربی کنارے پر اس کے قبضے کی نشان دہی کرتی ہیں۔

اسرائیل کا اس علاقے پر مجموعی طور پر کنٹرول ہے، یہاں اس نے دو سطحی قانونی نظام کو برقرار رکھا ہوا ہے اور یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کر رہا ہے جسے زیادہ تر بین الاقوامی برادری غیر قانونی سمجھتی ہے۔

اسرائیل نسلی امتیاز کے کسی بھی الزام کو مسترد کرتا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ اس کے اپنے عرب شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اسرائیل نے 1990 کی دہائی میں امن عمل کے دوران میں مغربی کنارے میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فلسطینی اتھارٹی کو محدود خودمختاری دی تھی اور 2005 میں غزہ سے اپنے فوجیوں اور آباد کاروں کو واپس بلا لیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ مغربی کنارہ متنازع علاقہ ہے اور اس کی قسمت کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

پاردو نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے اپنے اور فلسطینیوں کے درمیان سرحدیں طے نہیں کیں تو یہودی ریاست کی حیثیت سے اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

ماہرین نے پیشین گوئی کی ہے کہ عربوں کی تعداد اسرائیل میں یہودیوں سے زیادہ ہو جائے گی اور ان علاقوں میں بھی جن پر اس نے 1967 میں قبضہ کیا تھا یعنی مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم۔ مسلسل قبضہ اسرائیل کو ایک مشکل انتخاب پر مجبور کرسکتا ہے: محروم فلسطینیوں پر یہودی اقلیتی حکمرانی کو رسمی شکل دینایا انھیں ووٹ دینے کا حق دینا اور ممکنہ طور پر تاریخی ارضِ فلسطین میں یہودی وطن کے صہیونی خواب کا خاتمہ۔

’’اسرائیل کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ جس ملک کی کوئی سرحد نہیں ہوتی،اس کی کوئی حدیں بھی نہیں ہوتی ہیں‘‘۔پاردو کا کہنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں