امریکا اور یورپی یونین نے ہولوکاسٹ سے متعلق فلسطینی صدر کے بیان کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا اور یورپی یونین نے فلسطینی صدر محمود عباس کے دوسری جنگِ عظیم میں یہود کے قتلِ عام ،ان پر ظلم و ستم اور یہود مخالفت کے بارے میں بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔

یورپی یونین کی سفارتی سروس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 87 سالہ عباس نے اگست کے آخر میں فتح تحریک کی انقلابی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں جو بیان دیا تھا،وہ 'غلط اور سراسر گمراہ کن' تھا۔

یہود مخاصمت کی نگرانی اور اس سے نمٹنے کے لیے امریکا کی خصوصی ایلچی ڈیبورا لپ شٹٹ نے صدر محمود عباس سے ان کے ’’نفرت انگیز اور یہود مخالف بیانات‘‘پر فوری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محمودعباس نے اس ردعمل پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کی جماعت فتح کے ارکان نے بھی رائٹرز کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

فلسطینی صدرنے کہا تھا کہ ’’نازی جرمنی نے یہودیوں کو ان کے مذہب کے بجائے ان کے ’’سماجی کردار‘‘ کی وجہ سے نشانہ بنایا تھا۔اس کی وضاحت بہت سے یہودی مصنفین نے کی ہے۔جب انھوں نے کہا کہ ہٹلر نے یہودی ہونے کی وجہ سے یہودکا قتل کیا تھا اور یورپ یہودیوں سے نفرت کرتا تھا کیونکہ وہ یہودی تھے، نہیں بلکہ یہ وضاحت کی گئی تھی کہ وہ ان (یہود) سے ان کے سماجی کردار کی وجہ سے لڑے تھے نہ کہ ان کے مذہب کی بنیاد پر ان سے لڑائی لڑی تھی‘‘۔

محمود عباس اکثر نازی جرمنوں کے ہاتھوں یہود کے قتلِ عام ہولوکاسٹ کے بارے میں اپنے متنازع بیانات کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو غم و غصے کےاظہار کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ہولوکاسٹ میں قریباً 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ روما برادری، معذور افراد اور جنسی اور صنفی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا بھی قتل کیا گیا تھا۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان نے فلسطینی صدر کے اس بیان کو ’’ہولوکاسٹ کے لاکھوں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی توہین‘‘ قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’اس طرح کی تاریخی تحریفیں اشتعال انگیز، انتہائی جارحانہ ہیں، یہ صرف خطے میں تناؤ کو بڑھانے کا کام کر سکتی ہیں اور کسی کے مفادات کو پورا نہیں کرتی ہیں۔ وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں جو تنازع کا دو ریاستی حل نہیں چاہتے، جس کی صدر عباس بارہا وکالت کرچکے ہیں‘‘۔

اسرائیل میں جرمن سفیر اسٹیفن سیبرٹ نے بھی محمود عباس کے بیان کی مذمت کی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’فلسطینی اپنے رہ نما سے تاریخی سچائی سننے کے حق دار ہیں نہ کہ اس طرح کی تحریف‘‘۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال برلن کے دورے کے موقع پر جب صدرعباس سے 1972ءکے میونخ اولمپکس میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے اسرائیلی ٹیم پر حملے کے 50 سال پورے ہونے پرایک سوال پوچھا گیا تو اس کے جواب میں انھوں نے اسرائیل پر ’’50 ہولوکاسٹ‘‘ برپا کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ان کا اشارہ اسرائیلی فوج کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مظالم کی جانب تھا لیکن جرمن چانسلر اولاف شُلز نے صدرعباس کی اس مماثلت پر سرزنش کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں