ایران: حجاب قوانین پر عمل نہ کرنے کے باعث واٹر پارک کی بندش

مہسا امینی کی برسی سے چند روز قبل ان کے چچا صفا علی کو گرفتار کرلیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں حجاب قوانین پر عمل نہ کرنے کے باعث ایک بہت بڑا واٹر پارک بند کردیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں ایک بہت بڑا تفریحی پارک بند کر دیا۔ اس پارک میں باحجاب خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

خبر رساں ایجنسی ’’ فارس‘‘ نے اعلان کیا کہ پولیس نے ایران کے دوسرے بڑے شہر کے مضافات میں پانی کے کھیلوں کے لیے معروف ’’خروشان‘‘ کمپلیکس کے دروازے بند کر دیے۔

کمپلیکس کے ڈائریکٹر محمد بابائی نے کہا کہ اسے پردہ کی حیثیت کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے حالانکہ ہم نے آنے والوں کو حجاب کی پابندی کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ یہ پارک 60 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے اور دنیا کے سب سے بڑے انڈور واٹر پارکس میں سے ایک کے طور پر معروف ہے۔ کمپلیکس کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اس بندش سے ایک ہزار ملازمین کو اپنی ملازمتوں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری طرف ایرانی حکام نے مہسا امینی کے چچا کو گرفتار کرلیا ہے۔ انسانی حقوق کے دفاع کے لیے کام کرنے والی کرد تنظیم "ہنکاؤ" اور کردستان میں ہیومن رائٹس نیٹ ورک نے دو الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ 30 سالہ صفا علی کو سکیورٹی فورسز نے سقز شہر میں گرفتار کیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

ہنکاؤ کے مطابق ایرانی فورسز نے بغیر کسی وارنٹ گرفتاری کے صفا علی کے گھر پر دھاوا بولا۔ مہسا امینی کی برسی سے کچھ دن پہلے صفا علی کو سخت حفاظتی نگرانی میں رکھا گیا تھا اور مہسا امینی کے مزار کے ارد گرد کیمرے نصب کر دئیے تھے۔

یاد رہے حجاب کی پابندی نہ کرنے پر گرفتار مہسا امینی 16 ستمبر کو پولیس کی حراست میں پراسرار طور پر ہلاک ہوگئی تھی جس کے بعد ایران بھر میں بڑے مظاہرے ہوئے تھے۔ کئی مہینوں تک ایران کی تاریخ کی بڑی احتجاجی تحریک چلتی رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں