بجلی کے قرضے ادا کرنے کے لیے فلسطینی فنڈز میں کٹوتی کریں گے: اسرائیل

بجلی کمپنی اتھارٹی سے وابستہ نہیں، یہ منظم بحری قذاقی اور ڈکیتی ہے: فلسطینی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جمع کیے گئے فنڈز میں سے رقم کاٹنا شروع کر دے گا تاکہ اسے مغربی کنارے میں بجلی کی کھپت کے نتیجے میں اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی میں مدد مل سکے۔

ترجمان نے کہا فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بجلی کی کھپت کی وجہ سے دو بلین شیکل ( 528 ملین ڈالر ) کل واجب الادا قرضہ ریاست کے زیر انتظام اسرائیلی بجلی کمپنی کو ادا کرنا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کٹوتی کی گئی رقم کا حساب فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ہر ماہ خریدی جانے والی بجلی کی مقدار کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کٹوتی 20 یا 30 ملین شیکل تک پہنچ سکتی ہے۔ انھوں نے اس طریقہ کار کو قانونی قرار دیا اور کہا کہ معاہدوں میں بیان کردہ رقم ادا کرنا ہوگی۔

واضح رہے فلسطینی اتھارٹی دو سال سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کر سکی۔ اسی وجہ سے اسے شدید مالی مسائل کا سامنا ہے۔ فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اضافی رقوم کی کٹوتی فلسطینیوں کے پیسے کی منظم بحری قزاقی اور ڈکیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کمپنی ایک نجی کمپنی ہے جو اتھارٹی سے وابستہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ قدم ایک مالی جنگ جو ہمارے لوگوں کے خلاف جاری سیاسی جنگ کے ساتھ مربوط ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے اسرائیلی حکام کا مقصد ہمارے لوگوں کے اپنے حقوق حاصل کرنے کی طاقت کم کرنا اور اپنی آزاد ریاست کے قیام کی جدوجہد کو کمزور کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں