بحرین قریبی تعلقات کے ذریعے اسرائیل کی تکنیکی مہارت سے استفادہ کرنا چاہتا ہے: سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تل ابیب میں بحرینی سفیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دے کر پانی کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مددگار ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اسرائیل کے ساتھ مزید تعاون کا ارادہ رکھتا ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین نے ستمبر 2020 میں معاہدۂ ابراہیم کے تحت اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات استوار کیے تھے۔ سوڈان اور مراکش نے بھی ان کی پیروی کی تھی اور اب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کی سعودی عرب کے ساتھ اس ضمن میں بات چیت جاری ہے۔

معاہدۂ ابراہیم کے تحت سفارتی تعلقات کی بحالی سے اب تک متحدہ عرب امارات کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے،اسرائیلیوں نے دبئی کا رُخ کیا ہے اور اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تجارت 2022 میں 2.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی اور 2023 کے پہلے سات ماہ میں 1.85 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔اسی سات ماہ میں اسرائیل کی بحرین کے ساتھ تجارت کا حجم صرف 85 لاکھ ڈالرتھا۔

اسرائیل میں بحرین کے سفیر خالد یوسف الجلاہمہ نے معاہدے کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر تل ابیب میں اسٹارٹ اپ نیشن سنٹرل کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’’یہ سب راتوں رات نہیں ہونے والا ہے۔کچھ لوگوں کو اسرائیل آنے میں پریشانی ہوتی ہے جبکہ اسرائیلی اکثر بحرین سے پہلے دبئی اور ابوظبی کو دیکھنے جاتے ہیں‘‘۔

الجلاہمہ نے کہا کہ ’’چونکہ تعلقات ابھی نئے ہیں ، لہٰذا زیادہ سے زیادہ شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔اگر میں ایک جوڑے کا انتخاب کروں تو یہ پانی کی حفاظت اور آب و ہوا کی تبدیلی ہے۔ ایگروٹیک ایک بہت اہم ٹیکنالوجی ہے جس پر ہم غور کریں گے اور خالص صفر کاربن کے اخراج سے نمٹنے والی ٹیکنالوجی بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے‘‘۔

انھوں نے اسرائیل میں کام کرنے والے بحرینی ڈاکٹروں کے اسرائیل کے سب سے بڑے اسپتال شیبا میڈیکل سنٹر کے ساتھ تعاون کی طرف اشارہ کیا اور پہلا بحرینی ڈاکٹر اگلے ماہ تل ابیب آنے والا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شیبامرکز بحرین میں ایک جدت طرازی مرکز کھولنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

درایں اثناء 600 اسرائیلی اور بحرینی کمپنیوں نے حال ہی میں باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون پرتبادلہ خیال کیا ہے۔اسرائیل کے تکنیکی شعبے کو تیز رفتار ترقی کی بدولت ملازمتوں میں کمی کا سامنا ہے۔ اس کمی کو دور کرنے میں مدد کے لیے بحرینی کارکنوں کو ملازمت دینے کا ایک منصوبہ بھی زیرِغور ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں