ہتھیار سمگلنگ کے الزامات، اردن کے ساتھ اسرائیلی حفاظتی دیوار منصوبے کی بحالی

ایران، حزب اللہ اور فلسطینی دھڑوں نے مغربی کنارے کو تل ابیب کے لیے کمزور نقطہ سمجھا ہے: گیلنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا اردن کے ساتھ مشرقی سرحد کے ساتھ ایک جدید حفاظتی دیوار کھڑی کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان پہلا نہیں ہے لیکن اس مرتبہ اس منصوبے پر "فلسطینی مزاحمت" میں اضافے کی روشنی میں اردن سے اسلحے کی سمگلنگ کی کارروائیوں میں اضافے کی بنا پر زور دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی حکام نے متعدد بار اردن سے مغربی کنارے اور اسرائیل کو ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی سمگلنگ کی کارروائیوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے اور الزام لگایا کہ ان میں سے زیادہ تر کے پیچھے ایران اور لبنانی حزب اللہ کا ہاتھ ہے۔

اسرائیل کا خیال ہے کہ مصر کے ساتھ مغربی سرحد پر سرحدی باڑ کی تعمیر کے بعد اسلحے کی سمگلنگ کو روکنے کے بعد اردن کے ساتھ مشرقی سرحد ہتھیاروں کی سمگلنگ کا گڑھ بن گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ ایران، لبنانی حزب اللہ اور فلسطینی دھڑوں نے اسرائیل کے لیے مغربی کنارے کو ایک کمزور نقطہ کے طور پر لیا ہے اور حملوں کی ہدایت کرنے کے مقصد سے وہاں بہت سے وسائل مختص کیے ہیں۔ بذریعہ اردن ہی ایران نے فلسطینی گروہوں کو ہتھیاروں کی منتقلی کی کوششیں کی ہیں۔

یاد رہے اسرائیل سمگلنگ کی کارروائیوں کو ناکام بنانے کا اعلان کرتا ہے لیکن وہ ان میں سے کچھ کی تفصیلات پر سخت کنٹرول نافذ کر دیتاہے اور اس سمگلنگ کی وضاحت نہیں کرتا۔ دو ماہ قبل بھی ہتھیاروں کی سمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیلی ایجنسی شاباک نے بھی جولائی کے آغاز میں انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل میں تین فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا تھا جو سمگلروں کے نیٹ ورک میں کام کر رہے تھے جو ’’حزب اللہ‘‘ کے ذریعے منشیات کی تجارت کرنے اور مختلف جماعتوں میں تقسیم کرنے کے لیے بھرتی کیے گئے تھے۔

دو روز قبل بھی شاباک نے اگست کے اوائل میں طولکرم کے قریب تین فلسطینیوں کو اس وقت گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا جب وہ اردن کی سرحد پر اسلحے کی مبینہ سمگلنگ کر رہے تھے۔

سات برس قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے زور دیا تھا کہ اسرائیل کو اپنے شہریوں کو شکاری جانوروں سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو دیواروں سے گھیر لینا چاہیے۔ یہ اقدام بتدریج اسرائیل کی سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جائے گا۔

اب پھر اتوار کو نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ہم اردن کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد پر باڑ لگائیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہاں سے کوئی دراندازی نہ ہو۔ ہم اپنی سرحدوں اور اپنے ملک کی حفاظت کریں گے۔ ایسا ہی ہم نے مصر کے ساتھ سرحد پر کیا ہے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع نے بتایا کہ اردن کے ساتھ سرحد کے پار ہتھیاروں کی سمگلنگ نے ایک ایسا ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے مغربی کنارے میں فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران حفاظتی باڑ کی تعمیر میں تاخیر اس کی بڑی لاگت کی وجہ سے ہوئی۔ دیوار کی تعمیر سے سمگلنگ کی کارروائیوں میں بہت کمی آئے گی لیکن انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکے گا۔

اردن سے اسلحے کی سمگلنگ میں اضافے کی وجوہات کے بارے میں اسرائیلی امور کے محقق عماد ابو عواد نے وضاحت کی کہ اس کی وجہ علاقائی عوامی جذبے کا وجود ہے جو فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہے۔

القدس سینٹر فار پولیٹیکل سٹڈیز کے ڈائریکٹر نے سمگلنگ کی شرح میں اضافے کی وجہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے حملوں میں اضافے اور اندرون و بیرون ملک ہتھیاروں کی قیمتوں میں بڑے فرق کو قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں