ہراسرائیلی فوجی جنگی جرائم کی زد میں آ سکتا ہے: فوجیوں کی یاہو کو وارننگ

سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل درآمد کے پابند نہیں: سپیکراسرائیلی پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل میں عدالتی نظام میں اصلاحات کی وجہ سے پیدا ہونے والا بجران ایک نئے انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] کے اسپیکر نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند نہیں ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی ریزرو فوج کے افسران اور قانونی ماہرین نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو مکتوب ارسال کیے ہیں جن میں انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ غرب اردن میں ذمہ داریاں ادا کرنے والا ہر سپاہی ’جنگی جرائم‘ کی زد میں آ سکتا ہے اور یورپ کے سفر کے دوران اس کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

گذشتہ مارچ میں حوارہ قصبے پر آباد کاروں کے حملے کے بعد فلسطینی جلتی ہوئی کار کا معائنہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)
گذشتہ مارچ میں حوارہ قصبے پر آباد کاروں کے حملے کے بعد فلسطینی جلتی ہوئی کار کا معائنہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو اب تک مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں کے لیے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ فوج، سپریم کورٹ اور انٹیلی جنس ادارے فوجیوں کی کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ فوج ان کی حمایت کرتی ہے۔ چونکہ یہ ایک طاقتور ادارہ ہے جس نے مغربی بین الاقوامی برادری میں اپنی اہمیت کا ثبوت دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی حکومتوں نے سابق اسرائیلی فوجی اہلکاروں کو گرفتار کرنے سے گریز کیا ہے۔ یہاں تک کہ جب بعض عدالتوں نے اسرائیلیوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے مگر حکومتوں نے گرفتاری کو روکا اور استثنیٰ دے دیا۔

تاہم عدلیہ اور خاص طور پر سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کے لیے حکومت کے "عدالتی اصلاحات" کے منصوبے کے بعد صورت حال بدل جائے گی۔ خاص طور پر جب سرکاری عہدیداروں، وزیر اعظم نیتن یاہو، سپیکر پارلیمنٹ امیر اوہانا اور دیگر نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی تعمیل کے پابند نہیں۔ اس طرح کے بیانات کے بعد یورپ میں اسرائیلی فوجیوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

اسرائیلی ریزرو فوجیوں نے گزشتہ فروری میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا (اے پی پی)
اسرائیلی ریزرو فوجیوں نے گزشتہ فروری میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا (اے پی پی)

جمعرات کو سینیئر قانون دان کے دفتر سے وزیراعظم نیتن یاھو کو جاری ایک ای میل میں ماہرین اور ملٹری پراسیکیوشن کے عہدیداروں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی عدم تعمیل بیرون ملک خاص طور پر یورپی ممالک کا سفر کرنے والے فوجیوں پر جنگی جرائم کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے مگر ان کی مدد کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اگر اسرائیلی عدالتوں کی حیثیت اور اختیارات پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے تو یورپی ممالک میں سفر کرنے والے فوجیوں کو مشکل وقت میں مدد فراہم کرنا بہت مشکل ہو گا۔ جب تک سپریم کورٹ اور عدالتی نظام کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کو منسوخ نہیں کیا جاتا یہ خطرہ موجود، ٹھوس اور حقیقی رہے گا۔ اس کا دوسرا اثر یہ پڑے گا کہ ریزرو فوج میں نئی کھیپ کی بھرتی اور فوج میں خدمات انجام دینے سے اجتناب فوج کو اندرونی سطح پر کمزور کرے گا۔

اسرائیلی ریزرو فوجی 18 جولائی کو نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے منصوبوں کے خلاف احتجاج میں ایک فوجی اڈے کے داخلی راستے کو بند کر رہے ہیں (اے پی)

اس مکتوب پر وکیل ایڈووکیٹ رونی براک مین نے دستخط کیے ہیں جنہوں نے کئی بین الاقوامی مقدمات کی پیروی کی۔ وہ جنگی جرائم کے لیے مسلح افواج کے ارکان کے خلاف مقدمہ چلانے کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے ماہر ہیں۔

فوج میں ملٹری انٹیلی جنس ڈویژن میں سپیشل آپریشنز یونٹ کے 1,340 افسران اور سپاہیوں کے دستخط شدہ ایک اور خط میں کنیسیٹ کے سپیکر امیر اوہانہ کی تقریر پر شدید تنقید کی گئی ہے۔اس میں انہوں نے دھمکی دی کہ "کنیسیٹ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو پامال کرتی ہے تو اس کا سخت ردعمل آسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ جو حکومت سپریم کورٹ کی بات نہیں مانتی وہ اگلی صبح فوج،،شن بیٹ اور موساد کے بغیر کیسے چل پائے گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں