سعودی جزائر اور ساحل پر سرگرمیاں دنیا کی توجہ مبذول کرانے لگیں

سعودی عرب کا دورہ کرنا ماضی کے مقابلے میں سب سے زیادہ آسان کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں بہترین قدرتی مناظر اور موسمی تنوع موجود ہے۔ اس تنوع میں میں میدان، پہاڑ، صحرا اور وادیاں شامل ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ مغرب میں بحیرہ احمر اور مشرق میں خلیج عرب کے ساحلوں کے ساتھ پھیلی ہوئی پٹی ہے جس نے پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

سعودی عرب میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جو دنیا میں اپنے ورثے اور تاریخ کے لیے جانےجاتے ہیں۔ یہ مقامات سیاحت کے لیے مشہور ہیں۔ صحراؤں اور جنگلی سرگرمیوں کے متلاشی بھی سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب میں تقریباً 3,400 کلومیٹر کا ساحل اور متعدد جزیرے ہیں۔ ان ساحلوں اور جزیروں پر بہت بڑے سیاحتی منصوبوں کو ترقی دی جارہی ہے۔ یہ ساحل اور جزیرے سعودی عرب میں 2030 کے ہدف کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس ہدف کے تحت سیاحتی شعبے کو جی ڈی پی کے 10 فیصد تک لانا ہے۔

سعودی وزارت سیاحت نے تصدیق کی ہے کہ مملکت میں سیاحت کی تحریک نے حالیہ برسوں میں قابل ذکر سرگرمی دیکھی ہے۔ سعودی عرب نے لاکھوں سیاحوں کو ان اہم سیاحتی مقامات سے لطف اندوز کرنے کے لیے راغب کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سعودی جزائر شمال میں تبوک سے پھیلے ہوئے ہیں ۔ ان کی تعداد تقریباً 104 جزائر ہیں۔ یہ پاکیزگی، سکون، جادو اور خوبصورتی سے مالا مال مقامات ہیں۔ ینبع، جدہ اور کنگ عبداللہ اکنامک سٹی سے گزرتے ہوئے عظیم فراسان جزیرے تک جزیرہ نما عرب اپنی خوبصورتی، پودوں اور درختوں کے ساتھ۔ نایاب جنگلی حیات کے ساتھ ساتھ 1150 جزائر بھی رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ساحل پر خلیج عرب کے پانیوں میں 150 دیگر جزائر ہیں۔

وزارت سیاحت نے بتایا کہ سعودی عرب خطے اور دنیا میں ساحل سمندر اور سمندری سرگرمیوں کے شوقین افراد کی بڑی تعداد کو اپنے حیرت انگیز مقامات اور تجربات سے لطف اندوز کرنے کے لیے راغب کر رہا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب کی سیر کرنے کے لیے ویزا کا حصول انتہائی آسان ہوگیا ہے۔ مملکت کا دورہ کرنے کے لیے کئی قسم کے ویزے دستیاب ہونے کے بعد سعودی عرب کا رخ کرنا بہت آسان ہے۔ الیکٹرانک وزیٹر ویزا میں 59 ممالک کے شہری شامل کئے گئے ہی حج سیزن کے علاوہ سیاحت یا عمرہ کے مقاصد کے لیے یا خاندان اور دوستوں سے ملنے کے لیے بھی سعودی عرب کا رخ کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب میں تقریبات، نمائشیں، اور کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں۔ امریکہ، یو کے، یورپی یونین کے ملکوں اور شینگن ممالک، خلیج تعاون کونسل کے ملکوں کے افراد کے لیے ویزوں کا حصول آسان بنا دیا گیا ہے۔ ایک ٹرانزٹ ویزا بھی ہے جو سعودی ایئر لائنز اور فلائناس کے ذریعے سفر کرنے والوں کو اپنی آخری منزل پر پہنچنے سے پہلے مملکت میں 96 گھنٹے قیام کی اجازت دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں