مصر جنگ نہیں کرے گا: جب انور سادات نے اسرائیل کی شکست کے لیے بڑا داؤ کھیلا

مصری دفاعی تجزیہ کار نے العربیہ پر انور سادات کے اسرائیل کو یہ باور کرانے کے منصوبے کا انکشاف کیا کہ مصر جنگ نہیں کرے گا، جس کے نتیجے میں اسرائیل جنگ ہار گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

جمعرات کو اسرائیلی حکومت کے آرکائیوز نے اکتوبر 1973 کی جنگ سے متعلق خفیہ دستاویزات کا انکشاف کیا، جس میں جنگ کے شروع ہونے سے پہلے کیے گئے اندازوں اور فیصلوں کی تفصیلات اور کئی انکشافات سامنے آئے۔

اسرائیلی اخبار ''یدیعوت احرونوت'' نے لکھا کہ ان دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع اور آرمی چیف دونوں کی جانب سے مصر اور شام کے ساتھ جنگ ​​چھڑنے کے امکان کو مسترد کرنے کے علاوہ صورتحال کے بارے میں غلط اندازے پیش کیے گئے۔

اخبار نے لکھا کہ جنگ شروع ہونے کے 50 سال بعد اسرائیلی حکومتی آرکائیو نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے لڑائی شروع ہونے سے 18 گھنٹے قبل وزیر اعظم گولڈا میئر کے دفتر میں ملاقات کی اور مصر اور شام سے سوویت خاندانوں کے انخلاء کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

مصری صدر انور سادات
مصری صدر انور سادات

حکام کا اس بات پر اتفاق تھا کہ جنگ نہیں چھڑے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرکائیو کی طرف سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیو کلپس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حکام کو شکوک و شبہات کا سامنا تھا اور اسرائیلی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ ان کا اندازہ غلط تھا۔

اس وقت کی اسرائیلی انٹیلی جنس سروس موساد کے سربراہ زیوی زامیر، جو ایک دوست سے ملنے لندن کے دورے پر تھے، اس ملاقات میں موجود نہیں تھے۔

دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع موشے دیان نے ملاقات کے دوران کہا کہ فضائی تصاویر سے مصری افواج کی، خاص طور پر توپ خانے کے حوالے سے بھرپور تیاری ظاہر ہوتی ہے۔

ہنری کسنجر
ہنری کسنجر

انہوں نے امریکیوں کو یہ پیغام بھیجنے کی تجویز دی کہ شام اسرائیل پر حملہ کرنے والا ہے، تاکہ وہ روس کو بتائیں کہ اسرائیل جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور روس کو شامیوں کے ارادوں کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ چند گھنٹوں بعد وزیراعظم گولڈا میئر کے دفتر میں ایک اور ملاقات ہوئی اور اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایلی زعیرا نے ایک اور نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور شام کی تیاریاں محض اسرائیل کے خوف کی وجہ سے ہیں۔

دستاویزات میں چیف آف اسٹاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’اس دعوے پر مبنی بنیادی تشخیص کہ ہم کسی نئی جنگ کے دہانے پر نہیں ہیں میرے نزدیک زیادہ معقول ہے۔

ان کی تیاریاں دکھاوے پر مبنی ہو سکتی ہیں یا انہیں خوف ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہمیں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔"

"لیکن اگر غیر جانبدار ہو کے دیکھا جائے تو "مجھے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ میرے پاس اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کافی ثبوت نہیں ہیں کہ ان کا اعلان جنگ کا کوئی ارادہ نہیں۔" انہوں نے کہا گولڈا میئر نے جواباً فوج سے مصری اور شامی حرکات سے باخبر رہنے کو کہا اور کہا کہ "ہر صورت میں میں اس عرصے کے دوران یہیں رہوں گی، اور میں تمام امکانات کے لیے تیار ہوں، مجھے امید ہے کہ حالات اس حد تک نہیں جائیں گے۔"

6 اکتوبر 1973 کی صبح، گولڈا میئر نے مصری اور شامی حملے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد، اسرائیلی فوج کے وزراء اور کمانڈروں کا ایک اجلاس بلایا۔

گولڈا مئیر اور موشے دیان
گولڈا مئیر اور موشے دیان

اجلاس کے اہم سوالات میں سے ایک مصر اور شام کے خلاف پیشگی حملہ کرنے سے متعلق تھا، لیکن وزیر دفاع نے اس آپشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا، "ہم اس وقت سیاسی نقطہ نظر سے پیشگی حملہ نہیں کر سکتے۔ حتی کہ جنگ شروع ہونے سے پانچ منٹ پہلے بھی نہیں۔"

گولڈا میئر نے وزیر دفاع کے نقطہ نظر کی حمایت کی، اور کہا کہ"قبل از وقت حملے کا اختیار بہت پرکشش ہے، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ 1948 کی جنگ نہیں ہے۔ دنیا اب چوکس ہے اور ہم پر یقین نہیں کرے گی۔"

اس بارے میں العربیہ سے بات کرتے ہوئے مصری فوج کے مورال افیئرز اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر میجر جنرل اسٹاف سمیر فرج نے تصدیق کی کہ "اجرانات کمیٹی" جو کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ اور اس دوران پیش آنے والی کوتاہیوں کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی تھی، نے اس وقت کے اسرائیلی چیف آف سٹاف کو برطرف کرنے اور انہیں اہم ذمہ داریاں تفویض کرنے سے روکنے کا فیصلہ جاری کیا تھا۔

گولڈا مئیرز، انور سادات اور موشے دیان
گولڈا مئیرز، انور سادات اور موشے دیان

گولڈا میئر کے بارے میں تمام اسرائیلی اخبارات اور سرکاری میڈیا نے یہ لکھا کی کہ انہوں نے تیاری کی سطح کو بڑھانے پر اتفاق نہ کر کے کی غلطی کی۔ جو اس مرحلے پر ان کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک تھی۔

مصری تجزیہ کار نے انکشاف کیا کہ کمیٹی نے موساد کے سربراہ کو غلط ثابت کیا کیونکہ انہوں نے مصر اور شام سے جنگ کےمتعلق قطعی رائے نہیں دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے اجرانات کمیٹی نے ابھی تک جنگ کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ شائع نہیں کی کیونکہ یہ گولڈا میئر اور موشے دیان کی اس غلطی کی تصدیق کرتی ہے۔

سابق کمانڈر کا مزید کہنا ہے کہ گولڈا میئر کو حملے کی توقع نہ ہونے کی ایک وجہ وہ اطلاع تھی جو امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی طرف سے موصول ہوئی تھی۔

مصر کے مرحوم صدر انور سادات نے جنگ سے پہلے ان کے قومی سلامتی کے مشیر احمد حفیظ اسماعیل کو ہنری کسنجر کے پاس یہ پیغام دے کے بھیجا کہ مصر اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گا کیونکہ روسیوں نے مصر کو ہتھیار فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب سادات نے اس انکار کے ردعمل میں روسی ماہرین کو ملک سے نکال دیا۔

اسی دوران انور سادات نے حافظ اسماعیل سے کہا کہ وہ کسنجر کو پرامن حل تک پہنچنے کے لیے مداخلت کرنے کی ضرورت سے آگاہ کریں۔ خاص طور پر چونکہ سادات پر مصر کے اندر جنگ چھیڑنے اور مقبوضہ زمین کو بحال کرنے کے لیے شدید عوامی دباؤ کا سامنا تھا۔

تجزیہ کار کے مطابق یہ دراصل مصر کے منصوبے کا حصہ تھا کہ اسرائیل کو اس دھوکہ میں رکھا جائے کہ مصر جنگ شروع نہیں کرے گا۔

گولڈا میئر کے لیے ہنری کسنجر کے رائے معتبر تھی اس لیے انہوں نے جنگ شروع ہونے سے پہلے الرٹ ہونے کا اعلان نہیں کیا اور اسرائیل یہ جنگ ہار گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں