کویت نے پولیس افسران پر 7 ممالک کے سفر پر پابندی عائد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کویتی وزارت داخلہ نے پولیس افسران اور ملازمین کے سات ممالک ایران، یمن، افغانستان، لبنان، شام، عراق اور سوڈان کے سفر پر جانے سے روک دیا ہے۔ تاہم ایسے افسران ان ممالک میں موجود اپنے اقارب کو بچانے کے لیے وہاں کا سفر کرنا چاہیں تو انہیں پیشگی اجازت لینا ہوگی۔

کویتی وزارت دفاع نے 2011ء میں ہونے والی بدامنی کےواقعات کے پس منظرمیں اسی طرح کا فیصلہ جاری کیا تھا، جس میں کویتی مسلح افواج کے سپاہیوں کو کئی عرب اور ایشیائی ممالک کے سفر سے منع کیا گیا تھا۔

اس پابندی کے تحت خبردارکیا گیا تھا کہ اگر کسی بھی فوجی کی جانب سے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تو اس سے باز پرس کی جائے گی اور اس کے نتیجے میں ان کی ملازمت سے برطرفی ہو سکتی ہے۔

"انڈی پنڈنٹ عربیہ" نے اپنی طرف سے اس فیصلے پر تبصرہ کرنے کے لیے کویتی وزارت داخلہ کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے اس بیان پر رد عمل سے معذرت کر لی۔

دوسری طرف ماہر قانون اور دانشور عبدالسلام العنزی کا خیال ہے کہ وزارت داخلہ اپنے ارکان پر سفری پابندیاں عائد کر سکتی ہے کیونکہ یہ ایک سکیورٹی ادارہ ہے جس کا اپنا قانون ہے۔اسی لیے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے اہلکار اس کے احکامات کے پابند ہیں۔ کوئی فوجی اہلکار بغیر اجازت کے یہاں سے سفر نہیں کر سکتا۔

العنزی نے مزید کہا کہ جہاں تک فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں پر عائد تعزیری سزاؤں کا تعلق ہے، وہ کویت پولیس کے قانون میں درج ہیں اور ان میں قید، تنبیہ، تنخواہ سے کٹوتی، اور ملازمت سے برطرفی شامل ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس معاملے میں کویتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے فیصلوں کے خلاف عدلیہ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ خودمختار فیصلے ہیں جن کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا ہے اور یہ قومی سلامتی کے عمومی نظام کے تابع ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں