مغربی کنارے میں نسلی تعصب برتا جا رہا: سابق موساد سربراہ کے بیان پر ھنگامہ

ایک سرزمین پر دو افراد سے دو مختلف قانونی نظاموں کے مطابق معاملہ نسلی امتیاز ہے: تامر پارڈو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی ایجنسی موساد کے سابق سربراہ تامر پارڈو نے مغربی کنارے میں جاری نسلی امتیاز پر مبنی نظام کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ ان کے بیان سے ھنگامہ کھڑا ہوگیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے تامر پاڈو کے ان بیانات کا خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے کہا اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک "نسل پرست" حکومت مسلط کر رہا ہے۔ ان کے اس تبصرے کو اسرائیل میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اے پی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں پارڈو نے کہا کہ یہاں یعنی مغربی کنارے میں ایک نسل پرست حکومت ہے۔ جب ایک سرزمین پر دو لوگوں کے ساتھ دو مختلف قانونی نظاموں کے مطابق معاملہ کیا جاتا ہے تو یہ ایک نسلی امتیاز پر مبنی نظام کہلاتا ہے۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج یا سکیورٹی سروسز کے ہاتھوں گرفتار فلسطینیوں کو فو جی عدالتوں میں بھیجا جاتا ہے جبکہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والی اسرائیلی یہودی بستیوں کو عام عدالتوں میں بھیجا جاتا ہے۔

2011 اور 2016 کے درمیان فارن انٹیلی جنس سروس کے سربراہ پارڈو کے بیانات نیتن یاہو کی اتحادی حکومت پر ایک سابق سینئر اسرائیلی اہلکار کی طرف سے سب سے واضح تنقید ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ کے سیاسی مشیر احمد الدیک نے پارڈو کے بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام کی بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف سے اسی طرح کے موقف سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اسرائیلی معاشرے میں فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کے لیے بیداری کا آغاز ثابت ہوگا۔

پارڈو اسرائیل کے سیاسی منظر نامے پر گزشتہ مہینوں میں نیتن یاہو کی جانب سے پیش کی جانے والی عدالتی ترامیم کے مسودے کی مخالفت کرتے ہوئے نمایاں ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے اس منصوبے کے خلاف اندرون ملک بے مثال احتجاج کیا گیا ہے۔

پارڈو کے بیانات اسرائیلی حکام اور سفارت کاروں کی طرف سے حال ہی میں کیے گئے اسی طرح کے تبصروں میں ایک اضافہ ہے۔ ان تبصروں میں خبر دار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے طرز عمل کو جاری رکھا تو وہ ایک نسل پرست ریاست بن سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں