غرب اردن: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی لڑکا شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ایک بچہ شہید اور متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے

غرب اردن کے جنوبی علاقے الخلیل میں ہفتے کے روز اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے پرتشدد کارروائیاں جاری رہیں۔

طبی اور مقامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ الخلیل کے شمال میں واقع عروب کیمپ سے تعلق رکھنے والا سولہ سالہ بچہ میلاد منتصر الرائے گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوا جو ہسپتال پہنچانے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوجیوں نے متعدد نوجوانوں اور بچوں پر براہ راست گولیاں برسائیں اور زہریلی آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے ایک 16 سالہ بچہ گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا جسے ایمبولینس کے عملے نے علاج کے لیے منتقل کیا جبکہ درجنوں شہری بھی زخمی ہوئے۔ زہریلی گیس کی شیلنگ سے درجنوں شہری دم گھٹنے سے متاثر ہوئے۔

ہلال احمر نے تصدیق کی ہے کہ بچہ العروب کیمپ میں قابض افواج کے ساتھ تصادم کے دوران کمر اور سینے میں گولیوں سے زخمی ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ٹیموں نے اس کی نبض اور سانس بند ہونے کے بعد دل اور پھیپھڑوں کو بحال کرنے کی کوشش کی اور اسے بیت لحم کے الیمامہ ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ دم توڑ چکا تھا۔

دوسری طرف اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نےمیلاد الرائے کی شہادت کے واقعے کو اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا ایک تازہ واقعہ قرار دیتے ہوئے بچے کو گولیاں مارنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مغربی کنارہ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں شامل ہے اور فلسطینیوں کو وہاں محدود خود مختاری حاصل ہے۔

اسرائیل وہاں لاکھوں فلسطینیوں کو فوجی حکمرانی کا نشانہ بناتا ہے اور بستیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم عالمی برادری غرب اردن میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے امریکی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات 2014 میں ختم ہو گئے تھے اور دوبارہ شروع ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں